اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
800. باب فضائل عيسىؑ
باب: حضرت عیسیٰؑ کے فضائل
حدیث نمبر: 1526
1526 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، وَالأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں ابن مریم علیہ السلام سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 48 باب واذكر في الكتاب مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1527
1527 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلاَّ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ، حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ، غَيْرَ مَرْيَمَ، وَابْنِهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ (وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (اس کی وجہ مریم [علیہا السلام] کی والدہ کی یہ دعا ہے: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] ”اے اللہ! میں اسے (مریم کو) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 44 باب قول الله تعالى واذكر في الكتاب مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1528
1528 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَى عِيسى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلاً يسْرِقُ فَقَالَ لَهُ: أَسَرَقْتَ قَالَ: كَلاَّ، وَاللهِ الَّذِي لاَ إِلهَ إِلاَّ هُوَ فَقَالَ عِيسى: آمَنْتُ بِاللهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا، پھر اس سے دریافت فرمایا: ”تو نے چوری کی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں!“ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔“” [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 48 باب واذكر في الكتاب مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»