🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

820. باب من فضائل أم سلمة أم المؤمنين رضی اللہ عنہ
باب: ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکی خوبیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
1594 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ جَبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمِّ سَلَمَةَ: مَنْ هذَا قَالَ، قَالَتْ: هذَا دِحْيَةُ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب سیدنا جبریل علیہ السلام چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟“ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
وضاحت: حضرت جبریل علیہ السلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آنا مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ جس صورت میں چاہیں آ سکتے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں