اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
823. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وأمه رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 1597
1597 صحيح حديث أَبي مُوسى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمْتُ، أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 37 باب مناقب عبد الله بن مسعود رضي الله عنه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1598
1598 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَطَبَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي مِنْ أَعْلَمِهِمْ بِكِتَابِ اللهِ، وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِم قَالَ شَقِيقٌ (رَاوِي الْحَدِيثِ) : فَجَلَسْتُ فِي الْحِلَقِ أَسْمعُ مَا يَقُولُونَ، فَمَا سَمِعْتُ رَدًّا يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے ستر سے کچھ زائد سورتیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں، حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق (راویِ حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القراء من أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1599
1599 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مِنْ كِتَابِ اللهِ إِلاَّ وَأَنَا أَعْلَمُ أَيْنَ أُنْزِلَتْ وَلاَ أُنْزِلَتْ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللهِ إِلاَّ وَأَنَا أَعْلَمُ فِيمَ أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنِّي بِكِتَابِ اللهِ تُبَلِّغُهُ الإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «وَالَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ» ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں“، کتاب اللہ کی جو سورت بھی نازل ہوئی ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ ہی اس کے پاس مجھے پہنچا سکتے ہیں (یعنی ان کا گھر بہت دور ہے) تب بھی میں سفر کر کے اس کے پاس جا کر اس سے اس علم کو حاصل کروں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القراء من أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1600
1600 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عَبْدُ اللهِ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقولُ: اسْتَقْرِئوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللهِ مَسْعُودٍ (فَبَدَأَ بِهِ) ، وَسَالِم مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا، تو انہوں نے کہا: میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا، کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”چار اشخاص سے قرآن سیکھو، عبداللہ بن مسعود“، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی، ”اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 26 باب مناقب سالم مولى أبي حذيفة رضي الله عنه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»