🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

828. باب من فضائل جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ
باب: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
1608 صحيح حديث جَرِيرٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پردہ کے ساتھ) مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو دیکھتے، خوشی سے مسکرانے لگتے۔ ایک دفعہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی سواری پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دستِ مبارک مارا، اور دعا کی: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 162 باب من لا يثبت على الخيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1609
1609 صحيح حديث جَرِيرٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ، يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمَائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ قَالَ: وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتهَا كَأَنَّها جَمَلٌ أَجْوَفُ، أَوْ أَجْرَبُ قَالَ: فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا، خَمْسَ مَرَّاتٍ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ؟» ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔“ یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے ”کعبۃ الیمانیہ“ کہتے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا، یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑ سوار تھے لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر (اپنے ہاتھ مبارک سے) مارا، میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرمانا، اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنانا۔“ اس کے بعد سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر بھجوائی۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (ابوارطاۃ حصین بن ربیعہ) نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا، جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنا دیا، یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد ویرانی سے ہے)۔“ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلہ کے تمام لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 154 باب حرق الدور والنخيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں