اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
839. باب من فضائل الأنصار رضی اللہ عنہ
باب: انصار کی فضیلتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1628
1628 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ فِينَا (إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ) بَنِي سَلِمَةَ وَبَنِي حَارِثَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تُنْزَلْ؛ وَاللهُ يَقُولُ (وَاللهُ وَلِيُّهُمَا)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت ہمارے (یعنی بنی حارثہ اور بنی سلمہ کے) بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِذْ هَمَّتْ طَّائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا﴾ [سورة آل عمران: 122] ”جب تمہاری دو جماعتیں سستی کا ارادہ کر چکی تھیں۔“ میری یہ خواہش نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ آگے فرما رہا ہے: ﴿وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا﴾ [سورة آل عمران: 122] ”اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا۔“ (تو اللہ کی ولایت یہ کتنا بڑا شرف ہے جو ہم کو حاصل ہوا۔) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 18 باب إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1629
1629 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَزِنْتُ عَلَى مَنْ أُصِيبَ بِالحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ زَيْدُ ابْنُ أَرْقَمَ، وَبَلَغَهُ شِدَّةُ حُزْنِي، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ، وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام حرہ میں جو لوگ شہید کر دیے گئے تھے ان پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو میرے غم کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے مجھے لکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور ان کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 63 سورة إذا جاءك المنافقون: 6 باب قوله (هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1630
1630 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ، مِنْ عُرُسٍ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلاً، فَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ قَالَهَا ثَلاَثَ مِرَارٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کی) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ (گواہ ہے) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو“، تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للأنصار أنتم أحب الناس إليَّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1631
1631 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَكلَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَرَّتَيْنِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔“ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للأنصار أنتم أحب الناس إليَّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1632
1632 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا کرنا اور خطاکاروں سے درگزر کیا کرنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 11 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقبلوا من محسنهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»