اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
866. باب فَضْلِ مَنْ یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الغَضَبِ وَبِأَیْ شَیْئٍ یَذْہَبُ الغَضَبُ
غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو پانے والے کی فضیلت اور کس چیز سے غصہ دور ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 1676
1676 صحيح حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے، بلکہ اصلی پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 76 باب الحذر من الغضب۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1677
1677 صحيح حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ. قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَد، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ. وَأَحَدَهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ، مُغْضَبًا، قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً، لَوْ قَالَهَا، لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ. لَوْ قَالَ: أَعُوذ بِالله مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم» . فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلاَ تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصے کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے، اگر یہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“ کہہ لے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس سے کہا: ”سنتے نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟“ اس نے کہا: ”میں دیوانہ نہیں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 76 باب الحذر من الغضب۔»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت سلیمان بن صرد خزاعی رضی اللہ عنہ ٓپ کی کنیت ابو مطرف ہے صحابی ہیں۔ جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سپہ سالاروں میں شامل رہے۔ کوفہ میں رہائش اختیار کی۔ پھر حضرت حسین سے خط و کتاب کی اور ان کے جانشین رہے ان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لشکر کشی کی تھی۔ اور عبیداللہ بن زیاد کے قتل کا مطالبہ کیا۔ پانچ ہزار لڑاکے مجاہد ان کے ساتھ تھے انہیں توابین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ طرفین میں جنگ ہوئی عین الوردہ مقام پر سلیمان شہید ہوئے۔ یہ سن ۶۵ ہجری کا واقعہ ہے۔ آپ نے ۱۵ احادیث روایت کی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»