اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
872. باب الوَصِيَّةِ بِالجَارِ وَالإِحْسَانِ إِلَيْهِ
باب: پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 1684
1684 صحيح حَدِيثُ عَائِشَةَ رضي الله عنها، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَ يُوصِيني جِبْرِيلُ بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 28 باب الوصاۃ بالجار۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1685
1685 صحيح حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 28 باب الوصاۃ بالجار۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»