اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
876. باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه
باب: اس شخص کی فضیلت جس کا بیٹا فوت ہو جائے اور وہ صبر کرے
حدیث نمبر: 1689
1689 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلاَثَة مِنَ الْوَلَدِ، فَيَلِجُ النَّارَ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے اگر تین بچے مر جائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر جائے گا بھی تو صرف قسم پوری کرنے کے لیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 6 باب فضل من مات له ولد فاحتسبه»
وضاحت: یہاں اس بات کا بھی لحاظ رہے کہ حدیث میں نابالغ اولاد کے مرنے پر اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے، بالغ کا ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ بالغ اور خصوصاً جوان اولاد کی موت کا سانحہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کی اللہ تعالیٰ سے سفارش کرتے ہیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1690
1690 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَة إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ، تَعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا، فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّم بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلاَثَةً، إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ اثْنَيْنِ قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔“ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔“ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو (بچے)؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس کلمہ کو دو مرتبہ دہرایا، پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب الاعتصام: 9 باب تعليم النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أمته من الرجال والنساء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1691
1691 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهذَا وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ثَلاَثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الحِنْثَ
عبد الرحمن بن الاصبہانی ذکوان سے، وہ ابو سعید سے اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اور (دوسری سند میں) عبد الرحمن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابو حازم سے سنا، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسے تین (بچے) جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 36 باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»