🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

879. باب كيفية خلق الآدمي في بطن أمه وكتابة رزقه وأجله وعمله وشقاوته وسعادته
باب: شکم مادر میں تخلیق انسانی کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، اعمال، بد بختی اور نیک بختی کا لکھا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1695
1695 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِق الْمَصْدُوقُ، قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ،وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةَ إِلاَّ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كَتَابُهُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلاَّ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 6 باب ذكر الملائكة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1696
1696 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ نُطْفَةٌ يا رَبِّ عَلَقَةٌ يَا رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ، قَالَ: أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثى شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ وَالأَجَلُ فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحمِ مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے، وہ کہتا ہے: «يَا رَبِّ نُطْفَةٌ» ”اے رب! اب یہ نطفہ ہے،“ «يَا رَبِّ عَلَقَةٌ» ”اے رب! اب یہ علقہ ہو گیا ہے،“ «يَا رَبِّ مُضْغَةٌ» ”اے رب! اب یہ مضغہ ہو گیا ہے۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی تخلیق مکمل کرے تو (وہ فرشتہ) کہتا ہے کہ مذکر ہے یا مؤنث؟ بدبخت ہے یا نیک بخت؟ روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی؟ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 17 باب مخلقة وغير مخلقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1697
1697 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ، فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلاَّ كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلاَّ قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا، وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَّا مَنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ قَالَ: أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسِّرُونَ لَعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَبُيَسِّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى) الآية
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہوگی یا بدبخت۔“ اس پر ایک صحابی نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسا کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہوگا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ ۝ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ۝ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ﴾ [سورة الليل: 5-7] ”جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور پرہیزگاری اختیار کی اور اچھے دین کو سچا مانا، اس کو ہم آسانی کے گھر یعنی بہشت میں پہنچنے کی توفیق دیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 83 باب موعظة المحدث عند القبر وقعود أصحابه حوله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1698
1698 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ: كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ اہل جہنم میں سے پہچانے جا چکے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 82 كتاب القدر: 2 باب جف القلم على علم الله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
1699 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ، فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 77 باب لا يقول فلان شهيد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں