🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

882. باب معنى كل مولود يولد على الفطرة، وحكم موت أطفال الكفار وأطفال المسلمين
باب: ’’ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ اس کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کی جو اولاد بچپن میں فوت ہو جاتی ہے ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
1702 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيرَةَ رضي الله عنه: (فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ، ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے، کیا تم اس کا کوئی عضو (پیدائشی طور پر) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ﴾ [سورة الروم: 30] ”یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی دین قیم ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 80 باب إذا أسلم الصبي فمات هل يصلى عليه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
1703 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے ہوتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 93 باب ما قيل في أولاد المشركين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
1704 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: اللهُ، إِذْ خَلَقَهُمْ، أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا، اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 93 باب ما قيل في أولاد المشركين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں