اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
902. باب التسبيح أول النهار وعند النوم
باب: شروع دن اور سوتے وقت تسبیح کہنا
حدیث نمبر: 1739
1739 صحيح حديث عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْنَا، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لأَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: أَلاَ أُعلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ، وَتَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدَا ثَلاَثَةً وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكمَا مِنْ خَادِمٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی۔ اس کے بعد آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہو سکی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی۔ اس پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے۔ اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں ہی لیٹے رہو۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں؟ جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ اور تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ پڑھ لیا کرو۔ یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 9 باب مناقب علي بن أبي طالب القرشي»
وضاحت: شیخ الاسلام حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص سوتے وقت اس حدیث پر عمل کر لیا کرے گا وہ اپنے اندر تھکن محسوس نہیں کرے گا۔ (راز)