اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
905. باب بيان أنه يستجاب للداعي ما لم يعجل فيقول دعوت فلم يستجب لي
باب: جلدی نہ کرے تو دعا قبول ہوتی ہے لیکن یہ نہ کہے کہ میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی
حدیث نمبر: 1742
1742 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 22 باب يستجاب للعبد ما لم يعجل»
وضاحت: قبولیت دعا کے لیے جلد بازی کرنا صحیح نہیں ہے۔ دعا اگر خلوص قلب کے ساتھ ہے اور شرائط و آداب دعا کوملحوظ خاطر رکھا گیا ہے تو وہ جلد یا بہ دیر ضرور قبول ہو گی۔ بہ ظاہر قبول نہ بھی ہو تو وہ ذخیرہ آخرت بنے گی۔ (راز)