اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
922. باب الدخان
باب: دھوئیں کا بیان
حدیث نمبر: 1783
1783 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ هذَا، لأَنَّ قرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهَمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشى النَّاسَ هذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ) قَالَ: فَأُتِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَسْقِ اللهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ قَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ فَاسْتَسْقَى، فَسُقُوا، فَنَزَلَتْ (إِنَّكُمْ عَائِدُونَ) فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، عَادُوا إِلَى حَالِهِمْ، حِينَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَة الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ) قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ (قحط) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھوئیں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا، اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو لوگوں پر چھا جائے۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا“۔ بیان کیا کہ پھر ایک صاحب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! قبیلہ مضر کے لیے بارش کی دعا کیجیے کہ وہ برباد ہو چکے ہیں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مضر کے حق میں دعا کے لیے کہتے ہو؟ تم بڑے جری ہو“۔ آخر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور بارش ہوئی۔ اس پر آیت ﴿إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] نازل ہوئی (یعنی اگرچہ تم نے ایمان کا وعدہ کیا ہے لیکن تم کفر کی طرف پھر لوٹ جاؤ گے) چنانچہ جب پھر ان میں خوشحالی ہوئی تو شرک کی طرف لوٹ گئے (اور اپنے ایمان کے وعدے کو بھلا دیا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے“ بیان کیا اس آیت سے مراد بدر کی لڑائی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 44 سورة الدخان: 2 باب يغشى الناس هذا عذاب أليم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»