اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
928. باب مثل المؤمن مثل النخلة
باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے
حدیث نمبر: 1792
1792 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي، مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي (قَالَ عَبْدُ اللهِ) : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْييْتُ ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا، مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں اپنی (کم سنی کی) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 4 باب قول المحدث: حدثنا أو أخبرنا وأنبأنا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»