اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
935. باب ترائى أهل الجنة أهل الغرف كما يرى الكوكب في السماء
باب: اہل جنت اپنے بالا خانوں سے ایک دوسرے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح آسمان کے ستاروں کو دیکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1803
1803 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرَفَ فِي الْجَنَّةِ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ قَالَ: فَحَدَّثْتُ النُّعْمَانَ ابْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ وَيَزِيدُ فِيهِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الْغَارِبَ فِي الأفُقِ الشَّرْقِيِّ وَالْغَرْبِيِّ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والے (اپنے اوپر کے درجوں کے) بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔“ راوی (عبدالعزیز) نے بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا اور اس میں وہ اس لفظ کا اضافہ کرتے تھے کہ ”جیسے تم مشرقی اور مغربی کناروں میں ڈوبتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق 51 باب صفة الجنة والنار»
حدیث نمبر: 1804
1804 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَيُونَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِم كَمَا يَتَرَاءَيُونَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ، لاَ يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آَمَنوا بِاللهِ، وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی لوگ اپنے سے بلند کمرے والوں کو اوپر اسی طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ستارے کو جو صبح کے وقت رہ گیا ہو (جسے لوگ) آسمان کے کنارے پورب یا پچھم میں دیکھتے ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل ہوگا۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو انبیاء کے محل ہوں گے جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہ پا سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ان لوگوں کے لیے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے انبیاء کی تصدیق کی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 8 باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة»