🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

941. باب فناء الدنيا وبيان الحشر يوم القيامة
باب: دنیا کے فنا ہونے کا بیان اور روز قیامت حشر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1817
1817 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ، يَا رَسُولَ اللهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ: الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَهِمَّهُمْ ذَاكِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بلاختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا۔ اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
1818 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ) الآيَةَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسى يَوْمَ الْقَيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مَنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ) إِلَى قَوْلِهِ (الْحَكِيمُ) قَالَ: فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا: ﴿وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ﴾ [سورة المائدة: 117] یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ: یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے۔ (مرتد ہوتے رہے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1819
1819 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلاَثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرِ، وَثَلاَثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِير، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسى مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا (ایک فرقہ والے) لوگ رغبت کرنے، نیز ڈرنے والے ہوں گے (دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہوگا کہ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے، کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی (اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہوگا) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہوگی، جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہوگی، جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہوگی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
وضاحت: علمائے اسلام نے اس آگ سے مراد کئی ناری واقعات کو لیا ہے۔ باقی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے، سچ ہے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں