اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
944. باب إِثبات الحساب
باب: حساب وکتاب کے اثبات کا بیان
حدیث نمبر: 1827
1827 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لاَ تَسْمَعُ شَيْئًا لاَ تَعْرِفُهُ إِلاَّ رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ أَوَلَيْسَ يَقُولُ اللهُ تَعَالَى (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا) قَالَتْ: فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ، وَلكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی بات سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (یہ سن کر) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] ”عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا“؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف (اللہ کے دربار میں) پیشی کا ذکر ہے، لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی (سمجھو) وہ غارت ہو گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1827]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 35 باب من سمع شيئًا فراجع حتى يعرفه»
حدیث نمبر: 1828
1828 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْزَلَ اللهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں، پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1828]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 19 باب إذا أنزل الله بقوم عذابًا»