🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

962. باب ما بين النفختين
باب: صور کے دو پھونکوں کا درمیانی فاصلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1864
1864 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: ثُمَّ يُنْزِلُ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلاَّ يَبْلَى، إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہوگا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا: ”کیا چالیس دن مراد ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ پھر شاگردوں نے پوچھا: ”کیا چالیس مہینے مراد ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ شاگردوں نے پوچھا کہ: ”کیا چالیس مراد ہیں؟“ کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ کہا کہ: ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہوگا سوائے ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 78 باب سورة عم يتساءلون»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں