🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

964. باب لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إِلا أن تكونوا باكين
باب: جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان کی بستیوں میں، سوائے روتے ہوئے، نہ جایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1876
1876 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هؤُلاَءِ الْمَعَذَّبِينَ، إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ لاَ يُصِيبُكُمْ مَا أَصَابَهُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عذاب والوں کے آثار سے اگر تمہارا گزر ہو تو روتے ہوئے گزرو، اگر تم اس موقع پر رو نہ سکو تو ان سے گزرو ہی نہیں، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ان کا سا عذاب آ جائے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 53 باب الصلاة في مواضع الخسف والعذاب»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1877
1877 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضَ ثَمُودَ، الْحِجْرَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا، وَاعْتَجَنُوا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا، وَأَنْ يَعْلِفُوا الإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَ تَرِدُهَا النَّاقَةُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثمود کی بستی حجر میں پڑاؤ کیا تو وہاں کے کنوؤں کا پانی اپنے برتنوں میں بھر لیا اور آٹا بھی اس پانی سے گوندھ لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو پانی انہوں نے اپنے برتنوں میں بھر لیا ہے اسے انڈیل دیں اور گندھا ہوا آٹا جانوروں کو کھلا دیں، اس کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی لیں جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 17 باب قول الله تعالى (وإلى ثمود أخاهم صالحًا»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں