اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
972. باب في الفأر وأنه مسخ
باب: چوہے کے مسخ شدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1886
1886 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لاَ أُرَاهَا إِلاَّ الْفَارَ إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ؛ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ فَحَدَّثْتُ كَعْبًا فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ لِي مِرَارًا فَقُلْتُ: أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ (ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے (کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔“ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے (حیرت سے) پوچھا: ”کیا واقعی آپ نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟“ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا: ”(کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟ (کہ اس سے نقل کرکے بیان کرتا ہوں)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»
وضاحت: اس میں اختلاف ہے کہ ممسوح لوگوں کی نسل رہتی ہے یا نہیں۔ جمہور کے نزدیک نہیں رہتی اور باب کی حدیث کو اس پر محمول کیا گیا ہے کہ اس وقت تک آپ پر وحی نہ آئی ہو گی۔ اسی لیے آپ نے گمان کے طور پر فرمایا۔ (وحیدی)