🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. باب من له عذر في التخلف
ان لوگوں کا بیان جنہیں (جہاد سے) پیچھے رہ جانے کا عذر حاصل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ثنا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: ثني سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ: " لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95، قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ حَتَّى خِفْتُ أَنْ تُرَضَّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا، میں بھی ان کے پاس آکر بیٹھ گیا، مروان نے ہمیں بتایا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ آیت لکھوائی: ﴿وَلَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ... وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ﴾ (النساء: 95) (اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں)، (مزید سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) اسی دوران سیدنا عبد الله بن ام مکتوم بھی آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر مجھ میں بھی جہاد کرنے کی ہمت ہوتی تو میں ضرور جہاد کے لیے جاتا، وہ نابینا شخص تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر وحی اتار دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ران میری ران پر تھی، وہ اتنی بوجھل ہو گئی کہ مجھے اپنی ران کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہو گیا، جب وحی کی کیفیت ختم ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ (النساء: 95) (معذوروں کے ماسوا) الفاظ اتار دیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2831، صحیح مسلم: 1898»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهَلْ لَكَ مِنْ أحَدٍ بِالْيَمَنِ؟ قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ: أَذِنَا لَكَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلا فَبِرَّهُمَا" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے ہجرت کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے شرک کو چھوڑ دیا ہے مگر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا پڑے گا، کیا یمن میں آپ کا کوئی رشتہ دار ہے؟ اس نے کہا: میرے والدین ہیں۔ آپ نے پوچھا: انہوں نے آپ کو اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں! فرمایا: واپس جا کر ان سے اجازت لیں، اگر وہ دونوں اجازت دے دیں تو جہاد کیجیے ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن سعيد بن منصور: 2334، مسند الإمام أحمد: 3/75-76، سنن أبي داؤد: 2530، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (422) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (10312) نے اس کی سند کو صحیح اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ (مجمع الزوائد: 8/138) نے حسن کہا ہے۔ دراج ابو سمح جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں