🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. في النفخ في الصلاة
نماز کے اندر پھونک کے ذریعے کوئی چیز نکالنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 6610 ترقیم الشثری: -- 6709
٦٧٠٩ - حدثنا محمد بن عبيد عن سفيان العصفري قال: صليت في حجرة (١) الشعبي فنفخت فنهاني وقال: (إن) (٢) رايت اذى فامسحه بيدك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (في).
(٢) سقط من: [أ].

حدثنا محمد بن عبيد، عن سفيان العصفري، قال:" صليت في حجرة الشعبي فنفخت فنهاني، وقال: إن رايت اذى، فامسحه بيدك"
حضرت سفیان عصفری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کے کمرے میں نماز پڑھی، میں نے پھونک کر منہ سے کوئی چیز نکالی تو انہوں نے مجھے منع کیا اور فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی ایسی چیز محسوس ہو تو اسے ہاتھ سے صاف کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6709، ترقيم محمد عوامة 6610)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 6611 ترقیم الشثری: -- 6710
٦٧١٠ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي حمزة عن ابي صالح ان قريبا لام سلمة صلى فنفخ فقالت (١) ام سلمة: لا تفعل فإن رسول الله ﷺ قال لغلام لنا اسود: -يقال له رباح-:"ترب يا رباح وجهك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: زيادة (له).
(٢) ضعيف؛ لضعف أبي حمزة، وقد اختلف في تعيين أبي صالح، والحديث أخرجه أحمد (٢٦٧٤٤)، والترمذي (٣٨١)، والحاكم ١/ ٢٧١ والنسائي في الكبرى (٥٤٨)، وابن حبان (١٩١٣)، والدولابي ١/ ١٥٨، والطبراني ٢٣/ (٧٤٢). وابن عبد البر في الاستذكار ٦/ ١٨٦، وأبو يعلى (٦٩٥٤).

حدثنا ابو الاحوص ، عن ابي حمزة ، عن ابي صالح :" ان قريبا لام سلمة صلى فنفخ، فقالت ام سلمة لا تفعل، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لغلام لنا اسود، يقال له رباح: ترب يا رباح وجهك"
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کے کسی رشتہ دار نے دورانِ نماز پھونک کر منہ سے کوئی چیز نکالی تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ایک کالے غلام سے جس کا نام رباح تھا، فرمایا تھا کہ اے رباح! اس مٹی کو اپنے چہرے پر مل لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6710، ترقيم محمد عوامة 6611)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 6612 ترقیم الشثری: -- 6711
٦٧١١ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن يحيى بن ابي كثير انه كره النفخ في الصلاة.
حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير:" انه كره النفخ في الصلاة"
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر نے نماز میں پھونک کے ذریعے کسی چیز کے نکالنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6711، ترقيم محمد عوامة 6612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں