مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. ما قالوا في الرجل يرى أن الشمس قد غربت
اگر کوئی شخص غروبِ شمس کا گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلے لیکن پھر معلوم ہو کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 9148 ترقیم الشثری: -- 9303
٩٣٠٣ - حدثنا ابو اسامة (حدثنا) (١) زكريا عن ابي إسحاق قال: غزوت مع زياد بن النضر ارض الروم قال، فاهللنا رمضان فصام الناس وفيهم اصحاب عبد الله عامر بن سعد وسميع وابو عبد الله (و) (٢) ابو معمر و (ابو مسافع) (٣) ، فافطر الناس يوما والسماء (مغيمة) (٤) ونحن بين جبلين الحارث والحويرث ولم افطر انا حتى تبين الليل، ثم إن الشمس خرجت فابصرناها (على) (٥) الجبل، فقال زياد: اما هذا اليوم فسوف نقضيه ولم (نتعمد) (٦) فطره.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (عن).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ب]: (وأبو مشافع).
(٤) في [أ، ص، ز]: (متغيمة).
(٥) في [أ]: (أعلى).
(٦) في [أ، ص]: (يتعمد).
حدثنا ابو اسامة , حدثنا زكريا، عن ابي إسحاق، قال: " غزوت مع زياد بن النضر ارض الروم، قال: فاهللنا رمضان فصام الناس وفيهم اصحاب عبد الله: عامر بن سعد , وسميع، وابو عبد الله، وابو معمر، وابو مسافع، فافطر الناس يوما والسماء مغيمة ونحن بين جبلين: الحارث، والحويرث، ولم افطر انا حتى تبين الليل، ثم إن الشمس خرجت فابصرناها على الجبل، فقال زياد: اما هذا اليوم فسوف نقضيه ولم نتعمد فطره"
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں سرزمین روم میں حضرت زیاد بن نضر کے ساتھ تھا۔ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا تو لوگوں نے روزہ رکھا جن میں حضرت عبد اللہ، عامر بن سعد، سمیع، ابوعبد اللہ، ابو معمر اور ابو مسافع تھے۔ لوگوں نے ایک دن روزہ رکھا اس دن آسمان پر بادل تھے۔ ہم حارث اور حویرث نامی دو پہاڑوں کے درمیان تھے۔ میں نے اس وقت تک افطار نہ کیا جب تک رات ظاہر نہ ہوگئی۔ پھر سورج نکلا اور ہم نے پہاڑوں پر اسے دیکھا۔ تو زیاد نے کہا کہ ہم اس دن کی قضا کریں گے اور ہم نے اس روزے کا اعتبارنہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9303]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9303، ترقيم محمد عوامة 9148)
ترقیم عوامۃ: 9149 ترقیم الشثری: -- 9304
٩٣٠٤ - حدثنا ابن عيينة عن زيد بن اسلم عن اخيه عن ابيه افطر عمر في شهر رمضان فقيل له: قد طلعت الشمس فقال: خطب يسير قد كنا جاهدين (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا ابن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن اخيه، عن ابيه , افطر عمر في شهر رمضان فقيل له: قد طلعت الشمس، فقال:" خطب يسير قد كنا جاهدين"
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رمضان کے مہینے میں روزہ افطار کیا تو ان سے کہا گیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ معمولی غلطی ہے، ہم نے تو پوری کوشش کی ہے لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9304]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9304، ترقيم محمد عوامة 9149)