🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. من كان يقول إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب
اگر روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کیا کہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9531 ترقیم الشثری: -- 9690
٩٦٩٠ - حدثنا ابن عيينة عن ابي الزناد عن (الاعرج) (١) عن ابي هريرة (انه) (٢) قال: إذا دعي (احدكم) (٣) إلى طعام وهو صائم فليقل: (إني) (٤) صائم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (الأحرج).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [ز]: (أحدهم).
(٤) في [هـ]: (أنا).
(٥) صحيح، أخرجه مسلم (١١٥٠) وأحمد (٧٣٠٤).

حدثنا حدثنا ابن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة ، انه قال: " إذا دعي احدكم إلى طعام وهو صائم فليقل إني صائم"
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9690، ترقيم محمد عوامة 9531)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9532 ترقیم الشثری: -- 9691
٩٦٩١ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق قال: دخلت على قيس بن ابي حازم فدعا لي بشراب فقال: اشرب، فقلت لا اريد، قال: (ا) (١) صائم انت؟ قلت: نعم، قال: فإني سمعت عبد الله يقول: إذا عرض على احدكم طعام او شراب وهو صائم فليقل: إني صائم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ك].
(٢) صحيح.

حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، قال: دخلت على قيس بن ابي حازم فدعا لي بشراب، فقال: اشرب , فقلت لا اريد، قال: اصائم انت؟ قلت: نعم، قال: فإني سمعت عبد الله , يقول: " إذا عرض على احدكم طعام او شراب وهو صائم فليقل إني صائم"
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت قیس بن حازم کے پاس آیا، انہوں نے میرے لئے کوئی پینے کی چیز منگوائی اور مجھ سے فرمایا کہ اسے پیو، میں نے کہا کہ میں نہیں پینا چاہتا۔ انہوں نے پوچھا کیا تمہارا روزہ ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے یا پینے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9691، ترقيم محمد عوامة 9532)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9533 ترقیم الشثری: -- 9692
٩٦٩٢ - حدثنا وكيع ويزيد عن إسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي قال: إذا (سئل) (١) احدكم وهو صائم فليقل: إني صائم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ب]: (سأل).
حدثنا وكيع , ويزيد، عن إسماعيل بن ابي خالد، عن الشعبي، قال: " إذا سئل احدكم وهو صائم فليقل إني صائم"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9692، ترقيم محمد عوامة 9533)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9534 ترقیم الشثری: -- 9693
٩٦٩٣ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد قال: كان ابن عمر إذا دعي إلى طعام وهو صائم اجاب، فإذا جاؤوا بالمائدة وعليها الطعام مد يده ثم قال: خذوا بسم الله فإذا اهوى القوم كف يده (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف ليث.
حدثنا حدثنا ابن فضيل، عن ليث، عن مجاهد، قال:" كان ابن عمر إذا دعي إلى طعام وهو صائم اجاب فإذا جاءوا بالمائدة وعليها الطعام مد يده، ثم قال:" خذوا بسم الله فإذا اهوى القوم كف يده"
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو روزے کی حالت میں کھانے کی دعوت دی جاتی تو دعوت قبول فرماتے، جب دستر خوان بچھ جاتا اور اس پر کھانا ہوتا تو اپنا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھاتے اور فرماتے کہ اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرو۔ جب لوگ کھانا شروع کردیتے تو وہ ہاتھ کھینچ لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9693، ترقيم محمد عوامة 9534)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9535 ترقیم الشثری: -- 9694
٩٦٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ابي إسحاق عن قيس بن ابي حازم عن عبد الله قال: إذا عرض على احدكم طعام او شراب وهو صائم فليقل: إني صائم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، عن مسعر، عن ابي إسحاق، عن قيس بن ابي حازم، عن عبد الله ، قال: " إذا عرض على احدكم طعام او شراب وهو صائم فليقل إني صائم"
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ کہے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9694، ترقيم محمد عوامة 9535)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9536 ترقیم الشثری: -- 9695
٩٦٩٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال: اتي انس بطعام فقال لي: ادن، فقلت: لا اطعم، فقال: لا تقل لا اطعم، قل: إني صائم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، قال: حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، قال: اتي انس بطعام، فقال لي: ادن، فقلت لا اطعم، فقال:" لا تقل لا اطعم قل إني صائم"
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس کے پاس کھانا لایا گیا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ قریب آجاؤ۔ میں نے کہا کہ میں نہیں کھاؤں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ میں نہیں کھاؤں گا بلکہ یہ کہو کہ میرا روزہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9695، ترقيم محمد عوامة 9536)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9537 ترقیم الشثری: -- 9696
٩٦٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ابي المهزم قال: قال ابو هريرة: إذا سئل احدكم: اصائم انت؟ فليقل: إني (صائم، فاما) (١) المؤمن فيدعو له بخير، واما المنافق فيقول: (مراء) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صائم ما).
(٢) في [أ، ز، ك، هـ]: (مرائي).
(٣) ضعيف جدًا؛ أبو المهزم متروك.

حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، عن ابي المهزم، قال: قال ابو هريرة : " إذا سئل احدكم اصائم انت فليقل إني صائم فاما المؤمن فيدعو له بخير واما المنافق فيقول مرائي"
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی سے سوال کیا جائے کہ تمہارا روزہ ہے تو تم جواب میں کہو کہ میرا روزہ ہے۔ مومن اس کے لئے خیر کی دعا کرے گا اور منافق اسے ریاکار کہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9696، ترقيم محمد عوامة 9537)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9538 ترقیم الشثری: -- 9697
٩٦٩٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا عمر (ان) (١) بن (حدير) (٢) عن ابى مجلز قال: دخلت عليه وهو ياكل فقال: ادن فكل، قال: قلت: إني صائم، قال: فلعلك ممن يزعم انه صائم وليس بصائم، قلت: سبحان الله، قال: قد كان من هو ⦗٤١⦘ خير منك يصوم ثلاثة (ايام) (٣) من كل شهر ثم يقول إني صائم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (عن).
(٢) في [هـ، أ]: (جدير).
(٣) في [أ، ب، ك، ص] زيادة: (أيام).

حدثنا يزيد بن هارون، قال: اخبرنا عمران بن حدير، عن ابي مجلز، قال:" دخلت عليه وهو ياكل، فقال: ادن فكل، قال: قلت: إني صائم، قال: فلعلك ممن يزعم انه صائم وليس بصائم , قلت: سبحان الله، قال: قد كان من هو خير منك يصوم ثلاثة من كل شهر، ثم يقول: إني صائم"
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں ابو مجلز کے پاس حاضر ہوا اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ قریب آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ حضرت ابومجلز نے فرمایا کہ شاید آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کا روزہ نہیں ہوتا لیکن وہ یہ خاسل کرتے ہیں کہ ان کا روزہ ہے! میں نے کہا کہ اللہ پاک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ذات تم سے بہتر تھی وہ ہر مہینے تین روزے رکھا کرتے تھے پھر فرماتے تھے کہ میرا روزہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9697، ترقيم محمد عوامة 9538)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں