صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب فَضْلِ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ:
باب: سورۃ کہف اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 809 ترقیم شاملہ: -- 1883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْف عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ".
معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد غطفانی سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس (مسلمان) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کر لیں، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کر لیا گیا۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1883]
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان سورہ کہف کی پہلی دس آیات یاد کرے گا وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 809
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 809 ترقیم شاملہ: -- 1884
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ شُعْبَةُ: مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ، وقَالَ هَمَّامٌ: مِنْ أَوَّلِ الْكَهْف، كَمَا قَالَ هِشَامٌ.
شعبہ اور ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ اس میں شعبہ نے سورہ کہف کی آخری (دس) آیات کہا ہے جبکہ ہمام نے ابتدائی (دس) آیات کہا ہے جس طرح ہشام کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1884]
امام صاحب نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہ روایت نقل کی ہے، جس میں شعبہ کی حدیث میں ”آخری دس آیات“ کہا گیا ہے اور ہمام نے ہشام کی طرح ”ابتدائی دس آیات“ کہا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 809
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 810 ترقیم شاملہ: -- 1885
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، " أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 "، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: وَاللَّهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو کتاب اللہ کی کون سی آیت، جو تمہارے پاس ہے، سب سے عظیم ہے؟" کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے (دوبارہ) فرمایا: "اے ابومنذر! کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب کی کون سی آیت جو تمہارے پاس ہے، سب سے عظمت والی ہے؟" کہا: میں نے عرض کی: «اللَّہُ لَا إِلہ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ» کہا: تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: "اللہ کی قسم! ابومنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1885]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو المنذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو المنذر! کیا تم جانتے ہو، اللہ کی کتاب کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”ابو المنذر! تمہیں علم مبارک ہو۔“ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 810
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة