🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

221. في الرجل (يكون) له المرأة أو الجارية فيشك في ولدها، ما يصنع؟
ایک آدمی کی کوئی بیوی یا باندی ہو لیکن اسے بچے میں شک ہو تو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17783 ترقیم الشثری: -- 18408
١٨٤٠٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن حميد (عن) (١) انس انه شك في ولد له فامر ان يدعى له القافة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بن).
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل ابن علية، عن حميد، عن انس ، انه " شك في ولد له فامر ان يدعى له القافة"
حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اپنے بچے کے بارے میں شک ہوا تو انہوں نے قیافہ شناس کو بلوانے کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18408]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18408، ترقيم محمد عوامة 17783)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17784 ترقیم الشثری: -- 18409
١٨٤٠٩ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن اسلم المنقري عن (عبد الله) (١) (بن) (٢) عبيد بن عمير قال: باع عبد الرحمن بن عوف جارية كان وقع عليها قبل ان (يستبرئها) (٣) فظهر بها حمل عند الذي (اشتراها) (٤) فخاصمه إلى عمر فقال عمر: هل كنت تقع عليها؟ قال: نعم! قال: فبعتها قبل ان تستبرئها؟ قال: نعم، قال: ما كنت لذلك بخليق. قال: فدعا القافة فنظروا إليه (فالحقوه) (٥) به. (قال) (٦) : قال: فولد له منها كثير فما (عيروه) (٧) به (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ز]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) في [أ، ب]: (يشتريها).
(٤) في [أ، ب، س، ط]: (إستبرئها).
(٥) في [أ، ب، س]: (وألحقوه).
(٦) في [ك، جـ، ز]: سقط (قال).
(٧) في [أ، ب، جـ، ك]: (غيروه).
(٨) منقطع؛ عبيد اللَّه عن عمر منقطع.

حدثنا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن اسلم المنقري، عن عبيد الله بن عبيد بن عمير، قال:" باع عبد الرحمن بن عوف جارية كان وقع عليها قبل ان يستبرئها، فظهر بها حمل عند الذي اشتراها فخاصمه إلى عمر، فقال عمر : هل كنت تقع عليها؟ قال: نعم , قال: فبعتها قبل ان تستبرئها؟ قال: نعم , قال: ما كنت لذلك بخليق! قال: فدعا القافة فنظروا إليه فالحقوه به"، قال: فولد له منها كثير فما عيروه به
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک باندی کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کرنے سے پہلے اسے فروخت کردیا، پھر خریدنے والے کے پاس اس کا حمل ظاہر ہوا۔ تو یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس سے جماع کیا کرتے تھے؟ انہوں نے اقرار کیا، پھر پوچھا کہ کیا تم نے اس کے رحم کے صاف ہونے کا یقین کئے بغیر اسے بیچ دیا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ پھر انہوں نے قیافہ شناسوں کو بلایا، انہوں نے بچے کو دیکھا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بچہ قرار دیا، پھر اس باندی سے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کی بہت اولاد ہوئی اور کسی نے اسے برا قرار نہ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18409، ترقيم محمد عوامة 17784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17785 ترقیم الشثری: -- 18410
١٨٤١٠ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن عثمان بن الاسور عن عطاء في الرجل يشك في ولده (قال: مره) (١) (فليستلحقه) (٢) (وإن) (٣) (عمر) (٤) بن الخطاب قال: من اقر انه اصاب وليدة او غشي الحقنا به ولدها (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [س]: (مرة).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فليستحلفه).
(٣) في [جـ، ك، ط]: (فإن)، وفي [ز]: (قال).
(٤) في [س]: (حدثنا عمرو).
(٥) منقطع؛ عطاء لم يدرك عمر.

حدثنا حدثنا الضحاك بن مخلد، عن عثمان بن الاسود، عن عطاء، في الرجل يشك في ولده قال: مره فليستلحقه، وإن عمر بن الخطاب , قال:" من اقر انه اصاب وليدة او غشي الحقنا به ولدها" ,
حضرت عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو اپنے بچے کے نسب کے بارے میں شک ہوا تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اسے حکم نے بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔ کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا ہے کہ جس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے کسی باندی سے جماع کیا ہے تو ہم بچے کو اسی کا قرار دیں گے۔ پھر میں نے اس بارے میں حضرت عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی فرمایا کہ اسے حکم دو کہ بچے کو اپنا بچہ قرار دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18410]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18410، ترقيم محمد عوامة 17785)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 18411
١٨٤١١ - وسالت عكرمة بن خالد فقال مره: (فليستلحقه) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فليستخلفه)، وفي [هـ]: (فليستحلفه).
وسالت عكرمة بن خالد، فقال: مره فليستلحقه
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18411، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17786 ترقیم الشثری: -- 18412
١٨٤١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب قال: قال عمر: حصنوهن او لا تحصنوهن؛ لا تلد امراة منهن على فراش احدكم إلا الحقته (به) (٢) يعني (السراري) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، ز]: (أنا).
(٢) سقط من [جـ، ك].
(٣) في [س]: (السرارير من).
(٤) صحيح.

حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، قال: نا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن رجاء بن حيوة، عن قبيصة بن ذؤيب، قال: قال عمر : " حصنوهن او لا تحصنوهن او لا تلد امراة منهن على فراش احدكم إلا الحقته به"، يعني السراري
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم ان باندیوں کو پاکدامن سمجھو یا نہ سمجھو، ان میں سے کسی عورت نے اگر تم میں سے کسی کے بستر پر بچے کو جنم دیا تو وہ بچہ اسی کا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18412، ترقيم محمد عوامة 17786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں