مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
10. في الرجل يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فتدخل ولا يعلم، من قال: يشهد على رجعتها إذا علم
اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی توتجھے طلاق ہے، وہ اس گھر میں داخل ہوئی لیکن آدمی کو علم نہیں تھا تو اسے جب علم ہو تو رجوع پر گواہ بنانا ضروری ہے
ترقیم عوامۃ: 18085 ترقیم الشثری: -- 18735
١٨٧٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن سعيد قال: سئل عن رجل قال لامراته: إن دخلت دار فلان فانت طالق، (فدخلت) (١) وهو لا يشعر، حتى مضى لذلك اشهر، فحدثنا عن قتادة عن الحسن وسعيد و (خلاس) (٢) (انهم) (٣) قالوا: إذا علم اشهد على مراجعتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (حلاس).
(٣) سقط من: [جـ].
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن سعيد، قال: سئل عن رجل قال لامراته: إن دخلت دار فلان ؛ فانت طالق؟ فدخلت وهو لا يشعر حتى مضى لذلك اشهر، فحدثنا عن قتادة، عن الحسن، وسعيد، وخلاس، انهم قالوا:" إذا علم ؛ اشهد على مراجعتها"
حضرت سعید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، وہ عورت اس گھر میں داخل ہوگئی لیکن مرد کو علم نہ تھا۔ اسے کئی مہینوں بعد پتہ چلا تو اس بارے میں حضرت حسن، حضرت سعید اور حضرت خلاس s فرماتے ہیں کہ جب اسے علم ہو تو اپنے رجوع پر گواہ بنائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18735]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18735، ترقيم محمد عوامة 18085)
ترقیم عوامۃ: 18086 ترقیم الشثری: -- 18736
١٨٧٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن يونس عن الحسن في رجل قال: (إن) (١) دخلت دار فلان فانت طالق واحدة، فدخلت وهو لا يشعر (قال) (٢) : إن كان غشيها في العدة فغشيانه لها مراجعة وإلا فقد بانت منه بواحدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (إذا).
(٢) في [أ، ب]: (وقال).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن يونس، عن الحسن، في رجل، قال: إن دخلت دار فلان فانت طالق واحدة , فدخلت وهو لا يشعر؟ قال:" إن كان غشيها في العدة فغشيانه لها مراجعة , وإلا فقد بانت منه بواحدة"
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو فلاں شخص کے گھر میں داخل ہوئی تو تجھے ایک طلاق ہے، اگر وہ داخل ہوئی اور مرد کو علم نہیں تھا، اب اگر عدت میں آدمی نے اس سے جماع کیا تھا تو جماع کرنا رجوع ہے اور اگر نہیں کیا تھا تو عورت کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18736]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18736، ترقيم محمد عوامة 18086)