🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. في (الرجل) يطلق امرأته ثلاثا ثم يجحدها
اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18530 ترقیم الشثری: -- 19223
١٩٢٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يطلق امراته ثلاثا ثم يجحدها قال: احب إلي ان ترافعه إلى السلطان، فإن حلف فاحب إلي ان (تفتدى) (١) منه إذا حلف.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط]: (يفتدى).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن مغيرة، عن إبراهيم في الرجل يطلق امراته ثلاثا، ثم يجحدها؟ قال:" احب إلي ان ترافعه إلى السلطان، فإن حلف , فاحب إلي ان تفتدي منه إذا حلف".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مقدمہ سلطان کے پاس لے جایا جائے اور اس آدمی سے قسم اٹھوائی جائے، اگر وہ قسم کھالے تو میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ عورت اسے فدیہ دے کر خلع کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19223]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19223، ترقيم محمد عوامة 18530)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18531 ترقیم الشثری: -- 19224
١٩٢٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إن كانت صادقة فقد حل (لها) (١) الفدية.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال:" إن كانت صادقة ؛ فقد حل لها الفدية".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر انکار کردے تو اگر عورت سچی ہے تو اس کے لئے فدیہ دے کر خلع لینا درست ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19224، ترقيم محمد عوامة 18531)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18532 ترقیم الشثری: -- 19225
١٩٢٢٥ - [حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن قال: (تقدمه) (١) إلى السلطان (فتستحلفه) (٢) ] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يقدمه).
(٢) في [أ، ب]: (فيستحلقه)، وفي [س]: (فتسلخفه).
(٣) سقط الخبر من: [ز].

حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن يونس، عن الحسن، قال:" تقدمه إلى السلطان ؛ فتستحلفه"
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت ایسی صورت میں خاوند کو سلطان کے پاس لے جائے اور وہ اس سے قسم لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19225، ترقيم محمد عوامة 18532)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18533 ترقیم الشثری: -- 19226
١٩٢٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن سليمان التيمي (عن الحسن) (١) في المراة تدعي ان زوجها طلقها ثلاثا وليس لها بينة قال: كان يامرها ان تقر عنده ولا (تفر) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (تقر).

حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن سليمان التيمي عن الحسن في المراة تدعي ان زوجها طلقها ثلاثا، وليس لها بينة؟ قال:" كان يامرها ان تقر عنده ولا تفر".
حضرت حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، اس عورت کے پاس کوئی گواہی نہیں ہے وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسی کے پاس رہے اس کے پاس سے کہیں نہ جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19226]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19226، ترقيم محمد عوامة 18533)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18534 ترقیم الشثری: -- 19227
١٩٢٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن داود عن جابر بن زيد قال: هما زانيان ما (اجتمعا) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يجتمعا)، وفي [هـ]: (يجتمعان).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن داود، عن جابر بن زيد، قال:" هما زانيان ما يجتمعان"
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اکٹھے رہیں گے زنا کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19227]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19227، ترقيم محمد عوامة 18534)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18535 ترقیم الشثری: -- 19228
١٩٢٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن إبراهيم بن مهاجر (عن مجاهد) (١) قال: كانت لابن عمر (سبية) (٢) فكان زوجها يسارها بالطلاق فقالت لابن عمر: إنه يكون منه الشيء في السر؟ فاحلفه وتركه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) في [خ]: (نسيبة).
(٣) حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن مهدي، عن سفيان، عن إبراهيم بن مهاجر، عن مجاهد، قال: " كانت لابن عمر نسيبة، فكان زوجها يسارها بالطلاق، فقالت لابن عمر: إنه يكون منه الشيء في السر؟ فاحلفه وتركه"
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک باندی کا خاوند اسے علیحدگی میں طلاق دیتا تھا، اس باندی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی تو انہوں نے اس کے خاوند سے قسم لی اور اسے چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19228، ترقيم محمد عوامة 18535)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18536 ترقیم الشثری: -- 19229
١٩٢٢٩ - حدثنا (ابو بكر) (١) قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن الهذيل بن بلال عن شيخ يكنى ابا عمرو (٢) قال: كنت جالسا عند ابن عباس فاتته امراة فقالت: إن زوجها يطلقها في السر، و (يجحد) (٣) في العلانية، فقال: عليه ان يحلف اربع شهادات بالله ما طلق، والخامسة ان لعنة الله (عليه) (٤) إن كان فعل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط، هـ]: (أبو داود).
(٢) في [ب، س]: زيادة (و).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك]: (يجحدها).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) مجهول؛ أبو عمرو مجهول.

حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحمن بن مهدي، عن الهذيل بن بلال، عن شيخ يكنى ابا عمرو، قال: كنت جالسا عند ابن عباس فاتته امراة , فقالت: إن زوجها يطلقها في السر ويجحدها في العلانية؟ فقال:" عليه ان يحلف اربع شهادات بالله ما طلق , والخامسة: ان لعنة الله عليه إن كان فعل"
ایک بزرگ ابو عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند علیحدگی میں مجھے طلاق دیتا ہے اور لوگوں کے سامنے آکر انکار کردیتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اللہ کی چار قسمیں کھائے کہ اس نے طلاق نہیں دی اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر اس نے طلاق دی ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19229، ترقيم محمد عوامة 18536)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18537 ترقیم الشثری: -- 19230
١٩٢٣٠ - حدثنا ابو بكر قال. نا عبد الرحمن بن مهدي عن الحكم (بن) (١) عطية قال: سمعت محمد بن سيرين وسئل عن الرجل يطلق امراته ثلاثا ثم يجحدها قال: تهرب منه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحمن بن مهدي، عن الحكم بن عطية، قال: سمعت محمد بن سيرين، وسئل عن الرجل يطلق امراته ثلاثا , ثم يجحدها؟ قال:" تهرب منه".
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد انکار کرے تو عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19230]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19230، ترقيم محمد عوامة 18537)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18538 ترقیم الشثری: -- 19231
١٩٢٣١ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري قال: (تستحلفه) (١) دبر الصلاة، فإن حلف ردت (عليه) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (يسنحلفه)، وفي [س]: (تستلحقه).
(٢) في [س]: سقط من: (عليه).

حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، قال:" تستحلفه دبر الصلاة، فإن حلف ؛ ردت عليه"
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد انکار کردے تو عورت نماز کے بعد اس سے قسم لے، اگر وہ قسم کھالے تو وہ عورت واپس آجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19231]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19231، ترقيم محمد عوامة 18538)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18539 ترقیم الشثری: -- 19232
١٩٢٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن حماد قال: سالته عن رجل طلق امراته ثلاثا وليس لها (بينة) (١) ، قال: تفتدي بمالها، قال قلت: فإن ابى؟ قال: تهرب منه ولا تقاره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بنية).
حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن شعبة، عن حماد، قال: سالته عن رجل طلق امراته ثلاثا وليس لها بينة؟ قال:" تفتدي بمالها، قال: قلت: فإن ابى؟ قال: تهرب منه ولا تقاره".
حضرت شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور عورت کے پاس کوئی گواہی نہ ہو اور مرد انکار کردے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت فدیہ دے کر اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ میں نے کہا اگر مرد انکار کرے تو پھر؟ انہوں نے فرمایا کہ عورت اس کے پاس سے بھاگ جائے، اس کے پاس نہ ٹھہرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19232، ترقيم محمد عوامة 18539)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں