مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
164. ما قالوا في المرأة تزوج في عدتها ففرق بينهما، (تعتد، بأيهما) (تبدأ)
اگر کوئی عورت اپنی عدت میں شادی کرلے اورپھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو وہ کس عدت کو پہلے گزارے گی؟
ترقیم عوامۃ: 19124 ترقیم الشثری: -- 19873
١٩٨٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن صالح بن (مسلم) (١) قال: قلت للشعبي: رجل طلق امراته فجاءآخر فتزوجها؟ قال: (قال) (٢) عمر: يفرق بينهما، وتكمل عدتها الاولى (وتستانف) (٣) (٤) من هذا عدة جديدة، ويجعل الصداق في بيت المال، ولا يتزوجها الثاني ابدا ويصير الاول خاطبا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (سلم).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك].
(٣) في [ك]: (تأتنف)، وفي [أ، ب، جـ، ط]: (تأنيف).
(٤) في [س]: زيادة (وتأتنف).
(٥) منقطع، الشعبي لم يدرك عمر.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل ابن علية، عن صالح بن مسلم، قال: قلت للشعبي: رجل طلق امراته فجاء آخر فتزوجها؟ قال: قال عمر:" يفرق بينهما , وتكمل عدتها الاولى , وتستانف من هذا عدة جديدة , ويجعل الصداق في بيت المال , ولا يتزوجها الثاني ابدا , ويصير الاول خاطبا" ,
حضرت صالح بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت میں کوئی دوسرا آدمی اس سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ اور وہ دوسرے خاوند سے نئے سرے سے عدت شروع کرے گی اور اس کا مہر بیت المال سے دیا جائے گا۔ دوسرا خاوند تو اس سے کبھی شادی نہیں کرسکتا اور پہلا خاوند پیام نکاح بھیج سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔ وہ پہلی عدت کو پورا کرے گی اور اس خاوند سے نئی عدت گزارے گی۔ وہ آدمی ہی اس کا مہر دے گا اور وہ دونوں اسے پیام نکاح بھجوا سکتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19873، ترقيم محمد عوامة 19124)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19874
١٩٨٧٤ - وقال (علي) (١) : يفرق (بينها) (٢) وبين زوجها، وتكمل عدتها الاولى وتعتد من هذا عدة جديدة، ويجعل لها الصداق بما استحل من فرجها ويصيران كلاهما خاطبين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقطت.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط): (بينهما).
(٣) صحيح.
وقال علي: يفرق بينها وبين زوجها وتكمل عدتها الاولى وتعتد من هذا عدة جديدة ويجعل لها الصداق بما استحل من فرجها ويصيران كلاهما خاطبين
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19874، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 19125 ترقیم الشثری: -- 19875
١٩٨٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن إسماعيل بن ابي خالد عن إبراهيم والشعبي في امراة تزوجت في عدتها قال الشعبي: تستانف ثلاثة قروء وتكمل ما بقي عليها من الاول.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبدة بن سليمان، عن إسماعيل بن ابي خالد، عن إبراهيم، والشعبي في امراة تزوجت في عدتها؟ قال الشعبي:" تستانف ثلاثة قروء , وتكمل ما بقي عليها من الاول" ,
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عدت میں شادی کرلے اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو تین حیضوں سے نئے سرے سے عدت پوری کرے گی اور باقی ماندہ عدت کو پہلے حیض سے شروع کرے گی۔ اور حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت کو پورا کرے گی اور پھر نئے سرے سے تین حیض پورے کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19875، ترقيم محمد عوامة 19125)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19876
١٩٨٧٦ - وقال إبراهيم: (١) تكمل ما بقي من الاول وتستانف ثلاثة قروء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (و).
وقال إبراهيم: تكمل ما بقي من الاول وتستانف ثلاثة قروء
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19876، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 19126 ترقیم الشثری: -- 19877
١٩٨٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا يحيى بن عبد الملك بن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن (الحكم) (٢) قال: يفرق بينهما، وتكمل عدتها من الاول، وتعتد من (ماء) (٣) الآخر، ويكون لها المهر بما استحل من فرجها، فإذا انقضت عدتها (فلتتزوجه) (٤) او غيره إن شاءت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ز، ط]: (عتبة).
(٢) في [ط]: (مطموسة).
(٣) في [جـ، س، ز، ط، هـ]: (مال).
(٤) في [س]: (فليتزجها)، وفي [أ، ب، جـ، ز]: (فلتزوجه).
حدثنا ابو بكر، قال: نا يحيى بن عبد الملك بن ابي غنية، عن ابيه، عن الحكم، قال: " يفرق بينهما , وتكمل عدتها من الاول , وتعتد من ماء الآخر , ويكون لها المهر بما استحل من فرجها , فإذا انقضت عدتها فلتتزوجه او غيره إن شاءت"
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ عورت پہلی عدت کو پورا کرے گی پھر دوسرے پانی کی عدت شروع کرے گی۔ اس کو دوسرے خاوند سے مہر بھی ملے گا۔ جب عدت پوری ہوجائے تو چاہے تو اس دوسرے مرد سے شادی کرلے اور چاہے تو کسی اور سے شادی کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19877، ترقيم محمد عوامة 19126)