🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ:
باب: ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1087 ترقیم شاملہ: -- 2528
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ "، فَقُلْتُ: " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ "، فَقَالَ: " أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ "، فَقُلْتُ: " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ "، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ "، فَقُلْتُ: " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ "، فَقَالَ: " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي.
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحییٰ، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ، حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کا کام پورا کیا۔ اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا۔ اور میں نے شام میں ہی جمعے کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ ”ہم اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے الفاظ تھے یا ”آپ اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2528]
ابوکریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں شام آیا اور ان کی ضرورت پوری کی۔ اور چاند جبکہ میں شام ہی میں تھا نمودار ہو گیا، میں نے چاند جمعہ کی رات دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آگیا تو مجھ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کچھ پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ کیا اور کہا: ”تم نے چاند کب دیکھا؟“ میں نے کہا: ”ہم نے اسے جمعہ کی رات دیکھا۔“ تو انہوں نے پوچھا: ”تم نے خود دیکھا ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، سب نے روزہ رکھا اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔“ تو انہوں نے کہا: ”لیکن ہم نے تو ہفتے کی رات دیکھا ہے، اس لیے ہم روزہ رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس پورے ہو جائیں یا ہمیں نظر آ جائے۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی رویت اور ان کے روزے کو کافی نہیں سمجھتے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔“ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث میں ہے «لَا نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي» ”ہم کافی نہیں سمجھیں گے یا آپ کافی نہیں سمجھتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1087
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں