مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. في (البندقة) والحجر يرمي به فيقتل، ما قالوا في لك؟
اگر مٹی کی گولی یا پتھر کو شکار پر پھینکا جائے اور شکار مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20086 ترقیم الشثری: -- 20901
٢٠٩٠١ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) سعيد قال: قال عمار: إذا رميت بالحجر او البندقة وذكرت اسم الله فكل وإن قتل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ]، وفي [أ، ب، ز، س، ط، هـ]: (بن)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (٨٥٢٤)، والمحلى (٧/ ٤٦٠)، والمبدع لابن مفلح (٩/ ٢٤١).
(٢) صحيح.
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ جب تم اللہ کا نام لے کر مٹی کی گولی یا پتھر شکار کی طرف پھینکو تو اس شکار کو کھاؤ خواہ وہ اس کو مار ڈالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20901]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20901، ترقيم محمد عوامة 20086)
ترقیم عوامۃ: 20087 ترقیم الشثری: -- 20902
٢٠٩٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبيد الله) (١) عن نافع عن ابن عمر انه كان لا ياكل ما (اصابت) (٢) (البندقة) (٣) والحجر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [س، ط]: (أصابه).
(٣) في [س]: (البندق).
(٤) صحيح؛ أخرجه البيهقي (٩/ ٢٤٩)، وبنحوه مالك (٢/ ٤٩١).
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مٹی کی گولی اور پتھر سے شکار کردہ جانور نہیں کھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20902، ترقيم محمد عوامة 20087)
ترقیم عوامۃ: 20088 ترقیم الشثری: -- 20903
٢٠٩٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن عبيد الله بن عمر عن القاسم وسالم انهما كانا يكرهان البندقة إلا ما ادركت ذكاته.
حضرت قاسم اور حضرت سالم مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو مکروہ قرار دیتے تھے البتہ جسے ذبح کرنے کا موقع مل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20903]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20903، ترقيم محمد عوامة 20088)
ترقیم عوامۃ: 20089 ترقیم الشثری: -- 20904
٢٠٩٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن عيسى بن المغيرة قال: سالت الشعبي عن المعراض والبندقة فقال: ذلك ما يفتي به اهل الشام وإذا هو لا يراه.
حضرت عیسیٰ بن مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے معراض اور مٹی کی گولی سے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل شام اس کے بارے میں کیا فتویٰ دیں حالانکہ انہوں نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20904]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20904، ترقيم محمد عوامة 20089)
ترقیم عوامۃ: 20090 ترقیم الشثری: -- 20905
٢٠٩٠٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن الاعمش عن إبراهيم قال: لا تاكل ما اصبت بالبندقة (١) إلا ان تذكي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (والحجر)، وفي [ط، هـ]: (أو بالحجر)، وانظر: تعليق التعليق (٤/ ٥٠١)، وعمدة القارئ (٢١/ ٩٣).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو بغیر ذبح کئے مت کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20905]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20905، ترقيم محمد عوامة 20090)
ترقیم عوامۃ: 20091 ترقیم الشثری: -- 20906
٢٠٩٠٦ - [حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن ليث عن مجاهد قال: ما اصبت بالبندقة او بالحجر فلا تاكل إلا ان تذكي] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: زيادة الخبر (حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ليث عن مجاهد قال: ما أصبت بالبندقة أو بالحجر إلا أن تذكي).
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مٹی کی گولی سے شکار کردہ جانور کو بغیر ذبح کیے مت کھاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20906]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20906، ترقيم محمد عوامة 20091)
ترقیم عوامۃ: 20092 ترقیم الشثری: -- 20907
٢٠٩٠٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن المبارك عن معمر عن قتادة عن سعيد ابن المسيب قال: ما رد عليك حجرك فكل.
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ پتھر سے جو شکار کرو اسے کھالو، حضرت عکرمہ اسے مکروہ قرار دیتے اور مردہ کہا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20907]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20907، ترقيم محمد عوامة 20092)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 20908
٢٠٩٠٨ - وكان عكرمة يكرهه ويقول: هو موقوذة.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20908، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 20093 ترقیم الشثری: -- 20909
٢٠٩٠٩ - [حدثنا ابو بكر قال: نا ابن مبارك عن معمر عن ابن ابي نجيح عن مجاهد انه كرهه] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، س، ط، هـ].
حضرت مجاہد نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20909]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20909، ترقيم محمد عوامة 20093)
ترقیم عوامۃ: 20094 ترقیم الشثری: -- 20910
٢٠٩١٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن (ابن) (١) حرملة (عن سعيد) (٢) قال: كل وحشية اصبتها بعصى او بحجر او ببندقة وذكرت اسم الله عليه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [س]: (ابن).
(٢) سقط (عن سعيد) من: [أ، س، ط، هـ].
(٣) كذا في النسخ، وفي مصنف عبد الرزاق (٨٥٢٢)، والمحلى (٧/ ٤٦٠) زيادة (فكل).
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ ہر وہ جنگلی جانور جسے تم لاٹھی، پتھر یا پانی کی گولی سے شکار کرو اور اس پر اللہ کا نام لو تو اسے کھالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20910]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20910، ترقيم محمد عوامة 20094)