مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
29. باب الرجل يطعن الصيد طعنا
اگر کوئی آدمی شکار کو نیزہ مار کر شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20136 ترقیم الشثری: -- 20952
٢٠٩٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا معتمر بن سليمان قال: قلت لبرد: الرجل (يكون على الرجل) (١) فيطعن (الحمار) (٢) (ويذكر) (٣) اسم الله، او يضربه بالسيف فذكر عن مكحول انه قال: إذا ذكر اسم الله حين يضرب او يطعن فليس به باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [س]: (بحار).
(٣) سقط في: [س].
حضرت معتمر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت برد سے ذکر کیا اگر ایک آدمی سوار ہوا اور کسی حمار کو نیزہ مار دے اور اللہ کا نام بھی لے یا تلوار مارے تو کیا حکم ہے؟ حضرت برد نے حضرت مکحول کا قول سنایا کہ اگر تلوار یا نیزہ مارتے ہوئے اس نے اللہ کا نام لیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20952، ترقيم محمد عوامة 20136)
ترقیم عوامۃ: 20137 ترقیم الشثری: -- 20953
٢٠٩٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا يحيى بن ابي زائدة عن ابن (جريج) (١) عن عطاء في رجل طعن صيدا برمحه وسمى قال: ياكله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ريح).
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے شکار کو نیزہ مارتے ہوئے بسم اللہ پڑھی تو اسے کھالے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20953، ترقيم محمد عوامة 20137)
ترقیم عوامۃ: 20138 ترقیم الشثری: -- 20954
٢٠٩٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن إسحاق بن سويد عن يحيى بن (يعمر) (١) قال: لا ياكل ما يطعن به في الحلق ثم يقطع (العروق) (٢) قال: (ذلك ليس) (٣) بذبح، ولكنه القتل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (معمر).
(٢) في [هـ]: (العرق).
(٣) في [جـ]: (ليس ذلك).
حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ نیزہ مارنے سے جانور اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک اس کے حلق میں نیزہ مار کر اس کی رگیں نہ کاٹے۔ کیونکہ یہ ذبح نہیں بلکہ قتل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20954]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20954، ترقيم محمد عوامة 20138)
ترقیم عوامۃ: 20139 ترقیم الشثری: -- 20955
٢٠٩٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن سماك قال: كان الظبي يمر بهم فيضربونه باسيافهم فيقطع هذا اليد وهذا الرجل فسمعت (مصعبا) (١) يخطب وينهى عن ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (شعبًا)، وفي [جـ، ع]: (مصعب بن الزبير).
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی ہرن لوگوں کے پاس سے گزرتی تو وہ اپنی تلواروں سے اس پر اس طرح وار کرتے کہ اس کا بازو وہاں جا گرتا اور پاؤں ادھر جا پڑتا جب حضرت مصعب بن زبیر کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20955]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20955، ترقيم محمد عوامة 20139)