مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
72. في الرجل يشتري من الرجل الشيء فيدفع إليه بعض الشيء فلا يقبضه المشترى حتى يذهب عند البائع
اگر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے، بائع کچھ چیز اس کے حوالے کردے لیکن مشتری اس پر قبضہ نہ کرے پھر وہ چیز بائع کے پاس ضائع ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 21023 ترقیم الشثری: -- 21881
٢١٨٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن عمرو بن (حريث) (١) ان رجلا اشترى جارية بستين دينارا، فنقد ثلاثين، ⦗٤١٥⦘ وارتهنها البائع بالبقية، فمكث اياما ثم اتى المشتري بثمنها فوجدها قد ماتت، فقال: ما اخذ البائع فله، واما البقية فللمشتري.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (حريب).
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ساٹھ دینار کے بدلے ایک باندی خریدی، تیس دینار نقد دیئے اور باقی کے بدلے بائع کے پاس اسے رہن رکھوا دیا، کچھ دن بعد مشتری باقی پیسے لے کر آیا تو دیکھا کہ وہ باندی مرچکی ہے، اس صورت میں حضرت عمرو بن شریح نے فیصلہ فرمایا کہ جن پر بائع نے قبضہ کیا ہے وہ بائع کے ہیں اور جو باقی ہیں وہ مشتری کے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21881، ترقيم محمد عوامة 21023)
ترقیم عوامۃ: 21024 ترقیم الشثری: -- 21882
٢١٨٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن محمد بن عبيد الله الثقفي ان شريحا قال: فيها (يرد) (١) البائع ما اخذ من ثمنها ويدفن جيفته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، و]: (ليرد).
حضرت شریح اس صورت میں فرماتے ہیں کہ بائع نے جو قیمت لی ہے وہ اس سے واپس نہیں لی جائے گی اور اس کی نعش کو دفن کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21882، ترقيم محمد عوامة 21024)
ترقیم عوامۃ: 21025 ترقیم الشثری: -- 21883
٢١٨٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي ان قول عمرو بن حريث كان اعجب إليه.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ عمرو بن حریث کا قول مجھے زیادہ پسند ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21883، ترقيم محمد عوامة 21025)
ترقیم عوامۃ: 21026 ترقیم الشثری: -- 21884
٢١٨٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في رجل اشترى من رجل جارية فنقد بعض ثمنها وامسكها البائع بالبقية فماتت، قال: يرد على المشتري ما اخذ، وهي من مال البائع.
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے ایک باندی خریدی، قیمت کا کچھ حصہ تو نقد ادا کردیا اور باقی مال کے بدلے وہ بائع کے پاس رکھوا دی، پھر اس باندی کا انتقال ہوگیا تو اس بارے میں حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ مشتری سے لی گئی رقم اس کو واپس کی جائے گی اور نقصان بائع کے مال میں سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21884]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21884، ترقيم محمد عوامة 21026)
ترقیم عوامۃ: 21027 ترقیم الشثری: -- 21885
٢١٨٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: إن كان نقد بعض الثمن وارتهن المتاع بالبقية، فهلك المتاع فهو بما ارتهنه، وله ما كان قد اخذ، فإن كان بيعا مما يكال ويوزن (فضمانه) (١) على البائع حتى يوفيه المشتري.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، و]: (فنقضانه)، وفي [ز]: (نقصانه)، وفي [هـ]: (يقضى به)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٤٢٤٦).
حضرت حسن اور حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر قیمت کا کچھ حصہ نقد دے دیا تھا اور باقی حصہ کے بدلے سامان رہن کے طور پر رکھوا دیا، پھر سامان ہلاک ہوگیا تو وہ اس چیز کے بدلے ہوگا جو مزید دینی تھی اور بائع جو وصول کرچکا ہے وہ اسی کا ہوگا، اگر کوئی چیز ایسی تھی جسے تولایاماپا جاتا ہے تو اس کا نقصان بائع کے ذمہ ہوگا یہاں تک کہ مشتری اسے پورا کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21885، ترقيم محمد عوامة 21027)