🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. الرجل يشتري الشيء (فيجد) به العيب
ایک آدمی کوئی چیز خریدے اور پھر اس میں عیب نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21200 ترقیم الشثری: -- 22072
٢٢٠٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (ابو بكر) (١) بن عياش عن مطرف عن الشعبي قال: كان شريح يستحلف على الداء الذي لا يرى: على علمه، وعلى الظاهر: (البتة) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ].
(٢) في [أ، ب، ح، جـ، س، هـ، ز]: (البينة)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٤٧٤٨).

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اس بیماری پر قسم دلوایا کرتے تھے جو نظر نہیں آسکتی، اس کے علم پر اور ظاہرپر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22072، ترقيم محمد عوامة 21200)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21201 ترقیم الشثری: -- 22073
٢٢٠٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم ان ابن عمر باع غلاما بثمانمائة درهم، فوجد به المشتري عيبا فخاصمه إلى عثمان، قال: فساله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (اتحلف) (١) له لقد بعته وما به عيب تعلمه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يحلف).
(٢) صحيح.

حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم کا ایک غلام فروخت کیا، پھر مشتری کو اس میں عیب نظر آیا تو وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اسے براءت کے ساتھ بیچا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی قسم کھاتے ہو کہ تم نے اسے بیچا تھا تو اس وقت تمہیں اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22073، ترقيم محمد عوامة 21201)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21202 ترقیم الشثری: -- 22074
٢٢٠٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء في الرجل يشتري المتاع او السلعة (فيجد) (١) به العيب، قال: يلتمس المبتاع البينة انه كان عند البائع، فإن وجد وإلا استحلف البائع على علمه. - وقال عمرو بن دينار: يحلف على علمه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (فيحدث).
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کوئی سامان خریدے اور پھر اس میں عیب پائے تو خریدار کو اس بات پر گواہی کی ضرورت ہوگی کہ یہ عیب بائع کے پاس ہی تھا، اگر گواہی مل جائے تو ٹھیک وگرنہ بائع سے قسم لی جائے گی کہ اسے اس عیب کا علم نہ تھا، حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ علم کی قسم لی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22074، ترقيم محمد عوامة 21202)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21203 ترقیم الشثری: -- 22075
٢٢٠٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر في رجل اشترى جارية وبها برص وليس (له) (١) شهود، قال: يحلف البائع بالله: ما باعها وبها برص.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، هـ]: (لها).
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے باندی خریدی اور پھر دیکھا کہ اس میں چیچک کی بیماری تھی اور خریدار کے پاس گواہ بھی نہیں تھے تو بائع سے قسم لی جائے گی کہ جب اس نے بیچا تو چیچک نہیں تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22075، ترقيم محمد عوامة 21203)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21204 ترقیم الشثری: -- 22076
٢٢٠٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: [حدثنا وكيع قال: حدثنا] (١) عمر بن [ذر] (٢) قال: كان القاسم بن عبد الرحمن يستحلف الرجل ما يدفعه عن حق (يعلمه) (٣) له.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (زر).
(٣) في [ح، ط]: (تعلمه).

حضرت عمر بن ذر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن اس بات پر قسم لیا کرتے تھے کہ بائع نے جب اس چیز کو حوالے کیا تو اس کے عیب کا اسے علم نہیں تھا، حضرت شعبی یمین مرسلہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا گناہ اس پر ہے جو جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22076، ترقيم محمد عوامة 21204)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22077
٢٢٠٧٧ - وقال الشعبي في اليمين المرسلة: إنما إثمه وبره على ما تعمد.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22077، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21205 ترقیم الشثری: -- 22078
٢٢٠٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (الحسن) (١) ابن عطاء (المدني) (٢) عن ابيه ان رجلا باع رجلا سلعة، فادعى المشتري عيبا، فخاصمه إلى عثمان بن عفان، فقال المشتري: احلف بالله: ما بعتني، (عيبا) (٣) فقال البائع: احلف بالله: لقد بعتك وما اعلم بها عيبا، قال: فقال عثمان: انصفك الرجل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، و]: (الحسين).
(٢) في [أ، ب، ح، س، ز، هـ]: (المديني).
(٣) سقط من [أ، ح، هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة الحسن بن عطاء.

حضرت عطاء مدینی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کچھ سامان بیچا، پھر مشتری نے عیب کا دعویٰ کردیا، اور وہ یہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، مشتری نے کہا کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ جب تم نے مجھے بیچا تھا تو اس میں کوئی عیب نہیں تھا، بائع نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ جب میں نے تمہیں یہ چیز بیچی تھی تو مجھے اس میں کسی عیب کا علم نہیں تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی نے تم سے انصاف کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22078، ترقيم محمد عوامة 21205)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21206 ترقیم الشثری: -- 22079
٢٢٠٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: اخبرني الزبير بن (جنادة) (٢) قال: سالت سالما عن ارض بيضاء اشتريتها ممن يملك رقبتها (لابني) (٣) ⦗٤٥٤⦘ فيها قال: لا باس، قال: فقلت يؤدي عنها الخراج، قال: لا باس، قلت: اقر بالصغار، قال: إنما ذلك في رؤوس الرجال.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خباب).
(٢) في [ح]: (خبادة).
(٣) في [س، هـ]: (لا شيء)، وفي [ط]: (لابناء).

حضرت زبیر بن جنادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سوال کیا کہ کیا میں خراج والی بنجر زمین کو کھیتی باڑی کے لئے خرید سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ کیا اس کا خراج ادا کیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ میں چھوٹوں کے لئے اقرار کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ یہ بات مردوں کے سروں میں ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22079]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22079، ترقيم محمد عوامة 21206)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں