🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. من كره أجر المعلم
جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21237 ترقیم الشثری: -- 22110
٢٢١١٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع وحميد بن عبد الرحمن عن مغيرة ابن زياد عن عبادة بن نسي عن الاسود بن ثعلبة عن عبادة بن الصامت قال: علمت ناسا من اهل الصفة: الكتابة والقرآن، فاهدى إلي رجل منهم قوسا فقلت: (ليست) (١) بمال، وارمي عنها في سبيل الله، لآتين رسول الله ﷺ فلاسالنه، فاتيته فقلت: يا رسول الله! (رجل) (٢) اهدى (إلي) (٣) قوسا ممن كنت اعلمه الكتابة والقرآن، وليست بمال، وارمي عنها في سبيل الله، فقال: إن كنت تحب ان تطوق بها طوقا من نار فاقبلها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (ليس).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ، س]: (لي).
(٤) مجهول؛ لجهالة الأسود بن ثعلبة، أخرجه أحمد (٢٢٦٨٩)، وأبو داود (٣٤١٦)، وابن ماجه (٢١٥٧)، والحاكم ٢/ ٤١، والبزار (٢٦٩٢)، والشاش (١٢٦٦)، والبيهقي ٦/ ١٢٥، والمزي ٣/ ٢٢٠، وعبد بن حميد (١٨٣)، والبخاري في التاريخ ١/ ٤٤٤، والبزار (٢٦٩٣)، والطحاوي ٣/ ١٧، والطبراني في مسند الشاميين (٢٢٥٣).

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدرسہ صفہ کے کچھ طلبہ کو میں نے کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی، پس میں نے یہ کہتے ہوے قبول کرلیا کہ یہ مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتے وقت دشمن پر تیر برساؤں گا۔ میں نے کہا کہ میں ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھوں گا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی ہے، کیونکہ میں نے اس کو کتابت اور قرآن کریم کی تعلیم دی تھی اور مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تو چاہتا ہے کہ کل قیامت کے دن یہ آگ کا طوق بنا کر تیرے گلے میں ڈالا جائے تو اس کو قبول کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22110، ترقيم محمد عوامة 21237)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21238 ترقیم الشثری: -- 22111
٢٢١١١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن الجريري عن (عبد الله) (١) ابن شقيق (٢) قال: يكره ارش المعلم، فإن اصحاب رسول الله ﷺ كانوا يكرهونه ويرونه شديدا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [هـ]: زيادة (الأنصاري).
(٣) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معلم کے اجرت لینے کو ناپسند کیا گیا ہے، بیشک نبی اکرم 5 کے صحابہ رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور اس کو سخت (گناہ، وبال) سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22111، ترقيم محمد عوامة 21238)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21239 ترقیم الشثری: -- 22112
٢٢١١٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن ميسر (ابو سعد) (١) عن موسى بن علي عن ابيه ان ابي بن كعب كان يعلم رجلا مكفوفا، فكان إذا اتاه غداه، قال: فوجدت في نفسي من ذلك فسالت رسول الله ﷺ فقال:"إن (كان شيئا) (٢) يتحفك به فلا خير فيه، وإن كان من طعامه وطعام اهله فلا باس (به) (٣) " (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [جـ، ز]، وسقط (أبو) من [أ، ح، س، ط].
(٢) في [أ، ح، س، ط، هـ]: (شيء).
(٣) سقط من: [س، ط، هـ].
(٤) مرسل ضعيف؛ محمد بن ميسر ضعيف، وعُلي تابعي، أخرجه ابن ماجه (٢١٥٨)، وعبد بن حميد (١٧٥)، والبيهقي (٦/ ١٢٥).

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ایک نابینا شخص کو تعلیم دی، اس کے بعد جب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق میرے دل میں کچھ شبہ سا پیدا ہوا، میں نے رسول کریم 5 سے اس کے متعلق دریافت کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ چیز تجھے تحفہ (اجرت) میں دیتا ہے تو تیرے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ہے، اور اگر اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے لئے ہے تو پھر اس کے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22112، ترقيم محمد عوامة 21239)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21240 ترقیم الشثری: -- 22113
٢٢١١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون ان ياخذوا على الغلمان في الكتاب اجرا.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بچوں کو کتابت سکھا کر اجرت کو ناپسند کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22113، ترقيم محمد عوامة 21240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں