مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
137. في الرجل يشتري الجارية فيظهر بها العيب
کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائےq
ترقیم عوامۃ: 21518 ترقیم الشثری: -- 22413
٢٢٤١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن اشعث عن الحكم في الرجل يشتري الجارية فيقول البائع: لا ادفعها إليك حتى تحيض، فوضعت على يدي عدل فماتت، فقال: هي (من) (١) مال البائع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
حضرت حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوئی شخص باندی خریدے اور بائع اس کو کہے کہ جب تک اس کو حیض نہ آجائے میں تیرے سپرد نہ کروں گا وہ کسی عادل اور امین شخص کے سپرد کردی گئی اور فوت ہوگئی،۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگئی۔ (نقصان بائع کا شمار ہوگا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22413، ترقيم محمد عوامة 21518)
ترقیم عوامۃ: 21519 ترقیم الشثری: -- 22414
٢٢٤١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن زكريا عن عامر انه سئل عن رجل اشترى جارية فزعم انها حبلى، فانكر الذي باعها فوضعوا الجارية على يدي عدل حتى (يبين) (١) حملها فماتت، فقال: إن كان (تبين حملها فهي من مال البائع وإن) (٢) ، لم (يكن تبين) (٣) حملها فهي من مال المشتري.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (تبين)، وفي [جـ]: (يتبين).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، هـ].
(٣) في [أ، ح]: (يبين)، وفي [هـ]: (يتبين).
حضرت عامر رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس کا خیال تھا کہ یہ باندی حاملہ ہے، جبکہ بائع نے اس کا انکار کیا، باندی عادل شخص کے سپرد کردی گئی یہاں تک کہ اس کا حمل ظاہر ہوا وہ مرگئی تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگی اور اگر حمل ظاہر نہ ہوا تو مشتری کے مال میں سے ہلاک ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22414، ترقيم محمد عوامة 21519)
ترقیم عوامۃ: 21520 ترقیم الشثری: -- 22415
٢٢٤١٥ - حدثنا ابو بكر (قال: حدثنا وكيع) (١) عن إسرائيل عن جابر عن عامر والحكم في رجل باع (من رجل) (٢) جارية فظفر بعيب، (فوضعاها) (٣) على يدي (عدل) (٤) فماتت، قالا: هي من مال البائع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ح، ط، هـ]: (فوضعها).
(٤) في [م]: (رجل).
حضرت عامر اور حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس میں عیب نکل آئے اور اس کو کسی عادل کے سپرد کردیا گیا، پھر وہ باندی مرگئی، اب اس کا کیا حکم ہے؟ دونوں نے فرمایا کہ وہ بائع کے مال میں ہلاک ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22415، ترقيم محمد عوامة 21520)