🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

175. في بيع المجازفة لما قد علم كيله
جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21836 ترقیم الشثری: -- 22759
٢٢٧٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس قال: إذا علمت مكيلة شيء فلا (تبعه) (١) جزافا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (تبيعه).
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب کسی چیز کی مقدار معلوم ہو تو پھر اس کو اندازے سے فروخت نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22759]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22759، ترقيم محمد عوامة 21836)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21837 ترقیم الشثری: -- 22760
٢٢٧٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معتمر بن (سليمان) (١) قال: قلت لابي: الرجل يقول: قد كلت في هذه (الخابية) (٢) كذا وكذا منا، ولا ادري لعله (ينقص او يسرق) (٣) او (تشتبه الخابية) (٤) اوكان فيه غلط، لا ابيعك كيلا، إنما ابيعك جزافا، قال: كان ابن سيرين يكرهه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سلمان).
(٢) في [هـ]: (الجايبة)، وفي [ط]: (الجابية).
(٣) في [جـ]: (نقص أو سرق).
(٤) في [أ، ح]: (نسيه الخابية)، وفي [ط]: (نسيه الجايية)، وفي [و]: (تشبه الجابية).

حضرت معتمر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ایک شخص کہنے لگا کہ میں نے اس مٹکے کو تولا ہے اس میں اتنے من ہے، اور مجھے نہیں معلوم شاید یہ کم ہوگیا ہو، یا اس میں سے چوری ہوگیا ہو یا پھر کسی اور مٹکے سے مل گیا ہو یا پھر اس میں کچھ غلطی ہوگئی ہو، میں اس کو کیل کر کے فروخت نہیں کروں گا، میں اس کو اندازاً فروخت کروں گا، اب اس بیع کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین نے اس کو ناپسند کیا اور حضرت حسن رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22760]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22760، ترقيم محمد عوامة 21837)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22761
٢٢٧٦١ - وكان الحسن لا يرى به باسا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22761، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21838 ترقیم الشثری: -- 22762
٢٢٧٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: سالت إبراهيم عن رجل كان جزافا فقال له: ما (كان في بيتك) (١) من حنطة فبكذا، و (ما كان) (٢) من شعير فبكذا وكذا، قال: فكرهه إبراهيم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، هـ]: (في بيتك كان).
(٢) سقط من: [ط].

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اندازے سے خریدتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ تیرے گھر میں گندم ہے وہ اتنے میں اور جو بھی جُوْ ہے وہ اتنے اتنے میں؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22762]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22762، ترقيم محمد عوامة 21838)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21839 ترقیم الشثری: -- 22763
٢٢٧٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (فطر) (١) انه سال الشعبي عن قوم من الاعراب يقدمون (علينا) (٢) بالطعام فنشتري منهم كيلا ثم نقول: بيعونا جزافا قال: لا، حتى (تتاركوا البيع) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (قطر).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ز]: (تاركونا البيع)، وفي [هـ]: (فتاركوا بالبيع).

حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کچھ دیہاتی ہمارے پاس غلہ لے کر آئے ہم نے ان سے کیل کر کے کچھ خریدا پھر وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ اندازے سے بیع کرو؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کرو یہاں تک کہ وہ بیع چھوڑنے پر راضی ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22763]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22763، ترقيم محمد عوامة 21839)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21840 ترقیم الشثری: -- 22764
٢٢٧٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء انه لم يكن يرى باسا ان يبيعه جزافا (إذا) (١) اعلمه انه يعلم كيله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فإذا).
حضرت عطا رحمہ اللہ اندازاً بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جبکہ اس چیز کی مقدار معلوم ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22764]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22764، ترقيم محمد عوامة 21840)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21841 ترقیم الشثری: -- 22765
٢٢٧٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (رواد) (١) بن جراح ابو (عصام) (٢) العسقلاني عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير، قال: سالت الحسن و (مجاهدا) (٣) وعكرمة (وعطاء) (٤) عن رجل ياتي الرجل (فابتاع) (٥) من بيته طعاما (٦) فيه مجازفة، ورب الطعام قد علم كيله، (فكرهه) (٧) كلهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (داود)، وفي [أ، ح]: (رواد).
(٢) في [ز]: (عاصم).
(٣) في [ز]: (مجاهد).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [جـ]: (فيبتاع).
(٦) في [ط]: زيادة (و).
(٧) في [جـ]: (وكرهه).

حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ اور حضرت عطا سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس آتا ہے اور اندازاً گندم کی بیع کرتا ہے، اور بعض اوقات گندم کی مقدار معلوم بھی ہوتی ہے تو ایسی بیع کرنا کیسا ہے؟ سب حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22765]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22765، ترقيم محمد عوامة 21841)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21842 ترقیم الشثری: -- 22766
٢٢٧٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الربيع (عن) (١) نافع قال: لقد رايتنا وفينا اصحاب رسول الله ﷺ يجاء بالاوساق (فتلقى) (٢) (بالمصلى) (٣) فيقول الرجل: كلت كذا وكذا، ولا ابيعه مكايلة، إنما ابيعه مجازفة فلم يروا به باسا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بن)، وهو الربيع بن صبيح.
(٢) في [ط]: (فنلقى).
(٣) في [جـ، ز]: (في المصلى).
(٤) ضعيف؛ لضعف الربيع.

حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ ان کے سامنے غلے کے وسق لائے جاتے تھے اور ایک آدمی کہتا کہ میں نے ان چیزوں کو کیل کر کے لیا ہے میں انہیں کیل کے حساب سے نہیں بلکہ اندازے سے بیچوں گا۔ اصحاب نبی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22766]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22766، ترقيم محمد عوامة 21842)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21843 ترقیم الشثری: -- 22767
٢٢٧٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (عبيد الله) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: كنا (نتلقى) (٢) الركبان فنشتري منهم الطعام مجازفة، ⦗٧٤⦘ (فنهى) (٣) رسول الله ﷺ ان نبيعه حتى نحوله من مكانه او ننقله (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ح]: (نلتقي)، وفي [ط]: (نلقي)، وفي [هـ]: (نلتقي).
(٣) في [جـ]: (فنهانا).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢١٦٧)، ومسلم (١٥٢٦).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ سواروں سے ملتے اور ان سے اندازے سے گندم وغیرہ خریدتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا جب تک کہ ہم اس کو اس کی جگہ سے منتقل نہ کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22767]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22767، ترقيم محمد عوامة 21843)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں