🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

226. الرجل يحلف فينكل عن اليمين
آدمی سے قسم اٹھوائی جائے وہ قسم اٹھانے سے انکار کر دے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22224 ترقیم الشثری: -- 23179
٢٣١٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن الحارث قال: نكل رجل عند شريح عن اليمين فقضى شريح (١) ، فقال (الرجل) (٢) : انا احلف، فقال شريح: قد مضى قضائي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عليه).
(٢) في [ح]: (رجل).

حضرت حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فیصلہ فرما دیا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں قسم اٹھاتا ہوں، حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا میرا فیصلہ اب ہوچکا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23179، ترقيم محمد عوامة 22224)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22225 ترقیم الشثری: -- 23180
٢٣١٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن (ابن) (١) جريج عن ابن ابي مليكة عن ابن عباس انه امره ان يستحلف امراة، فابت ان تحلف فالزمها ذلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک خاتون سے قسم اٹھانے کا کہا، اس نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، تو انہوں نے وہ قسم اس کو لازم کردی۔ (یعنی بغیر قسم کے اس کے حق فیصلہ نہیں کیا جائے گا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23180، ترقيم محمد عوامة 22225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22226 ترقیم الشثری: -- 23181
٢٣١٨١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم ان ابن عمر باع غلاما له بثمانمائة درهم، فوجد به المشتري عيبا فخاصمه إلى عثمان، فقال له عثمان: بعته بالبراءة، فابى ان يحلف، فرده عثمان عليه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم کا ایک غلام فروخت فرمایا۔ مشتری نے اس میں عیب پایا، وہ جھگڑا لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ: آپ نے عیب سے بری ہو کر فروخت کیا تھا؟ انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غلام ان کو واپس لٹا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23181]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23181، ترقيم محمد عوامة 22226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22227 ترقیم الشثری: -- 23182
٢٣١٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة وابن شبرمة قالا: اشترى عبد الله غلاما (لامراة) (١) ، فلما ذهب به إلى منزله حم الغلام (فجاء ليرد الغلام) (٢) فخاصمه إلى الشعبي، فقال لعبد الله: بينتك انه دلس (للرد) (٣) عيبا؟ فقال: ليس لي بينة، فقال (للرجل) (٤) : احلف انك لم تبعه (ذا) (٥) داء، فقال: الرجل إني ارد اليمين على عبد الله، فقضى الشعبي باليمين عليه، فقال: إما ان تحلف وإلا جاز عليك الغلام.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (لامرئ).
(٢) في [هـ]: (في البرد).
(٣) في [هـ]: (عليك).
(٤) في [أ، ح، ز]: (الرجل).
(٥) زيادة من: [جـ، ز].

حضرت مغیرہ اور حضرت شبرمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ نے ایک غلام خریدا، جب اس کو لے کر مکان پر پہنچے تو غلام کو بخار ہوگیا، وہ غلام کو واپس کرنے کے لئے لے کر آئے، جھگڑا حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے، آپ رحمہ اللہ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا: اس پر گواہ پیش کرو کہ اس نے تیرے سے غلام کے عیب کو چھپایا ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا میرے پاس گواہ نہیں ہیں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے دوسرے شخص سے فرمایا: آپ قسم اٹھاؤ کہ آپ نے غلام بیماری کی حالت میں فروخت نہیں کیا۔ اس شخص نے کہا کہ میں قسم کو عبد اللہ پر لٹاتا ہوں، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ان پر قسم اٹھانے کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا: آپ قسم اٹھاؤ وگرنہ آپ پر غلام لازم ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23182، ترقيم محمد عوامة 22227)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں