🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

270. المرأة تصدق من بيت زوجها
عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22514 ترقیم الشثری: -- 23491
٢٣٤٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة وابو معاوية عن الاعمش عن (شقيق) (١) عن مسروق عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إذا انفقت المراة من بيت زوجها (غير مفسدة) (٢) كان (لها) (٣) اجرها، وله مثله بما اكتسب، ولها (بما) (٤) انفقت، وللخازن مثل ذلك" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (سفيان)، وفي [هـ]: (شفيق).
(٢) سقط من: [أ، هـ].
(٣) في [أ، ح، ط]: (له).
(٤) في [أ، ح، ط]: (ما).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤٣٧)، ومسلم (١٠٢٤).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر عورت خاوند کے گھر سے صحیح طریقہ سے صدقہ کرے تو اس کا اجر اس کو ملے گا، اور خاوند کو کمائی کی مثل اور عورت کو خرچ کرنے کے مثل، اور خازن کو بھی اسی کے مثل اجر ملے گا، اور حضرت ابو معاویہ کی روایت میں اس کا اضافہ ہے کہ ان کے اجر میں کمی کیے بغیر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23491]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23491، ترقيم محمد عوامة 22514)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23492
٢٣٤٩٢ - زاد ابو معاوية:"من غير ان ينتقص من اجورهم شيئا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٠٢٤)، وأحمد (٢٤١٧١).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23492، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22515 ترقیم الشثری: -- 23493
٢٣٤٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (سالته) (١) امراة (فقالت) (٢) : ياتي المسكين افاتصدق من مال زوجي بغير إذنه؟ فكرهه وقال لها: اله ان يتصدق بحليك بغير إذنك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، س، ط، هـ]: (سألت).
(٢) في [ط، هـ]: (فقال)، وسقط من: [ز].
(٣) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک خاتون نے دریافت کیا کہ! میرے پاس مسکین آتا ہے کیا میں شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے صدقہ کرسکتی ہوں؟ آپ نے اس کو ناپسند فرمایا: اور اس کو کہا: کیا تو اپنے شوہر کو اجازت دے گی کہ وہ تیرا زیور تیری اجازت کے بغیر صدقہ کر دے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23493، ترقيم محمد عوامة 22515)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22516 ترقیم الشثری: -- 23494
٢٣٤٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن ابي زائدة عن عبد الملك عن عطاء عن ابي هريرة قال: لا تصدق المراة إلا من قوتها، فاما من مال زوجها فلا يحل لها إلا بإذنه، ويكون الاجر بينهما (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ خاتون اپنی غذا (خوراک) کے علاوہ صدقہ نہ کرے، اور خاوند کے مال میں بغیر اجازت کے صدقہ کرنا حلال نہیں، اور (اگر کردیا تو) ثواب دونوں کو ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23494، ترقيم محمد عوامة 22516)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22517 ترقیم الشثری: -- 23495
٢٣٤٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن ابي زائدة عن الصلت بن بهرام عن ام صالح ان امراة قالت لعائشة: يصلح للمراة ان تاخذ من بيت زوجها الشيء، بغير إذنه؟ فقالت: ما عليها إن فعلت ذلك ام نقبت بيت جارتها فسرقته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة أم صالح.
حضرت ام صالح سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا عورت خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ اٹھا سکتی ہے؟ اس کو کوئی فرق نہیں ہے خواہ اس طرح کرلے یا اپنے پڑوسی کے گھر میں نقب لگا کر چوری کرلے۔ (یعنی خاوند کا بلا اجازت استعمال کرنا اور پڑوس کے گھر میں چوری کرنا ایک برابر ہے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23495]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23495، ترقيم محمد عوامة 22517)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22518 ترقیم الشثری: -- 23496
٢٣٤٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قالت: جاءت هند إلى النبي ﷺ (فقالت) (١) : يا رسول الله إن ابا سفيان رجل شحيح فلا يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما اخذت من ماله وهو لا يعلم فقال:"خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (قالت).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٦٤)، ومسلم (١٧١٤).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ہند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول 5! ابو سفیان بخیل انسان ہے اور مجھے اتنا نہیں دیتا جو میرے اور بچوں کے لئے کافی ہو، پھر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ نکال لیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیرے اور بچوں کے لئے کافی ہو اتنا اچھے طریقے سے لے لیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23496]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23496، ترقيم محمد عوامة 22518)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22519 ترقیم الشثری: -- 23497
٢٣٤٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن دغفل عن الحسن قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله ما امري وامر (صاحبتي) (١) ؟ (قال) (٢) :"و (اي) (٣) امركما؟" قال: تصدق من بيتي بغير إذني، قال: (الاجر بينكما) قال: ارايت إن (منعتها؟) (٤) قال:"لها ما (احسنت) (٥) ولك ما بخلت (٦) به (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (صاحبي).
(٢) في [هـ]: (فقال).
(٣) في [أ، هـ]: (باي).
(٤) في [أ، ح، ط]: (منعها).
(٥) في [أ، ح، ط]: (ما احتسبت).
(٦) في [أ، ح، ط]: (نحلت).
(٧) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٦٦١٦).

حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! میرا اور میری خاتون کا حکم (معاملہ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تم دونوں کا کون سا معاملہ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر صدقہ کرتی ہے، آپ نے فرمایا ثواب دونوں کو ملے گا، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کو اس سے روک لوں؟ آپ نے فرمایا اس کو اس کا ثواب ملے گا جو اس نے ارادہ کیا اور تیرے لئے (وبال ہے) جو تو نے بخل سے کام لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23497]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23497، ترقيم محمد عوامة 22519)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22520 ترقیم الشثری: -- 23498
٢٣٤٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن يونس عن زياد بن جبير عن سعد قال: لما بايع النبي ﷺ النساء (قامت) (١) إليه امراة جليلة كانها من نساء (مضر) (٢) فقالت: يا رسول الله إنا كل على (آبائنا) (٣) وازواجنا وابنائنا، فما يحل لنا من اموالهم؛ قال:"الرطب تاكلينه وتهدينه" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فأتت).
(٢) في [ح]: (مصر).
(٣) في [ح]: (أبينا).
(٤) صحيح؛ أخرجه أبو داود (١٦٨٦)، والحاكم (٤/ ١٣٤)، وعبد بن حميد (١٤٧)، والبيهقي ٤/ ١٩٢، وابن سعد ٨/ ١٠، والبزار (١٢٤١)، والضياء في المختارة (٩٤٩)، وابن أبي الدنيا في العيال (٥١٩).

حضرت سعد سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ایک خاتون کھڑی ہوئی گویا کہ وہ مضر میں سے تھی، عرض کی اے اللہ کے رسول 5! سب کچھ ہمارے والدین، شوہروں اور بیٹوں کے لئے ہے، ان اموال میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ تر چیز (جس کو ذخیرہ نہیں کرسکتے) اس کو کھاؤ بھی اور ہدیہ بھی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23498]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23498، ترقيم محمد عوامة 22520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22521 ترقیم الشثری: -- 23499
٢٣٤٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم قال: سمعت ابا امامة الباهلي يقول: سمعت النبي ﷺ يقول في (حجته) (١) عام (حجة) (٢) الوداع:"لا تنفق امراة شيئا من بيت زوجها إلا بإذنه" قيل: يا رسول الله ولا الطعام؟ قال:"ذلك افضل اموالنا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حجة).
(٢) سقط من: [ز، هـ].
(٣) حسن؛ إسماعيل بن عياش صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٢٩٤)، وأبو داود (٣٥٦٥)، والترمذي (٦٧٠)، وابن ماجه (٢٢٩٥)، والطيالسي (١١٢٧)، وعبد الرزاق (٧٢٧٧)، وسعيد بن منصور (٤٢٧)، والطبراني (٧٦١٥)، والدارقطني ٣/ ٤١، والبيهقي ٤/ ١٩٣، والبغوي (١٦٩٦).

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم 5 کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: کوئی بھی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے، پوچھا گیا اے اللہ کے رسول 5! کھانا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تو سب سے افضل مال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23499]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23499، ترقيم محمد عوامة 22521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں