🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

367. في دابة بدابة و (دراهم) معجلة
جانور کو جانور اور نقد دراہم کے بدلے فروخت کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22976 ترقیم الشثری: -- 23992
٢٣٩٩٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ايوب عن محمد انه كان لا يرى باسا دابة بدابة و (دراهم) (١) ، الدابة معجلة والدراهم نسيئة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (درهم).
حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جانور کو جانور اور دراہم کے بدلے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب کہ جانور نقد اور درہم ادھار ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23992]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23992، ترقيم محمد عوامة 22976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22977 ترقیم الشثری: -- 23993
٢٣٩٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سهل (بن) (١) يوسف عن اشعث عن الحسن ومحمد: بقرة ببقرة بينهما (دراهم) (٢) ، (الدراهم) (٣) نسيئة، قال محمد: لا باس به.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [هـ، ح]: (درهم).
(٣) في [هـ، أ]: (والدراهم)، وفي [ح، ط]: (الدرهم).

حضرت حسن اور حضرت محمد سے مروی ہے کہ گائے کو گائے کے بدلے فروخت کیا جائے، اور ان کے درمیان کچھ دراہم ہوں، اور دراہم ادھار ہوں، حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور حضرت حسن اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23993، ترقيم محمد عوامة 22977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 23994
٢٣٩٩٤ - وكرهه الحسن.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23994، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 22978 ترقیم الشثری: -- 23995
٢٣٩٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا بعض المشيخة عن قيس عن العلاء بن المسيب عن حماد عن إبراهيم قال: لا باس ان يباع البعير بالبعير بينهما (العشرة) (١) (الدراهم) (٢) إذا كان الحيوان معجلا والدراهم (مؤخرة) (٣) ، وكرهه إذا كانت الدراهم معجلة والحيوان (مؤخرا) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (عشره).
(٢) في [ز]: (دراهم).
(٣) في [هـ، أ]: (موجودة).
(٤) في [أ، هـ، ح، ط، جـ]: (مؤخرة).

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اونٹ کو اونٹ کے بدلے میں اس طرح فروخت کیا جائے کہ ان کے درمیان دس دراہم ہوں جبکہ حیوان نقد اور دراہم ادھار ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر دراہم نقد ہوں اور حیوان مؤخر ہوں تو اس کو ناپسند کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23995، ترقيم محمد عوامة 22978)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں