🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

410. الرجل يقرض (الرجل) الدراهم
کوئی شخص کسی کو دراہم قرض دے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23209 ترقیم الشثری: -- 24243
٢٤٢٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن التيمي عن ابي عثمان ان ابن مسعود كان يكره إذا اقرض (دراهم) (١) ان (ياخذ) (٢) خيرا منها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الدراهم).
(٢) في [أ]: (نأخذ).
(٣) صحيح.

حضرت ابو عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص دراہم کسی کو قرض دے کر اس سے بہتر وصول کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24243]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24243، ترقيم محمد عوامة 23209)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23210 ترقیم الشثری: -- 24244
٢٤٢٤٤ - [حدثنا ابو بكر قال: قال حدثنا ابن ابي زائدة عن حجاج عن عطاء قال: كان ابن عمر يستقرض فإذا خرج عطاؤه اعطاه خيرا منه] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من [أ، ح، هـ، ط].
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما دراہم قرض لیتے تھے۔ پھر جب انکا وظیفہ (تنخواہ) نکلتی تو اس سے اچھے درہم بدلہ میں ادا کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24244]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24244، ترقيم محمد عوامة 23210)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23211 ترقیم الشثری: -- 24245
٢٤٢٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا قطري بن عبد الله (ابو مري) (١) عن اشعث الحداني قال: سالت الحسن فقلت: يا ابا سعيد! تجيء الكبار ولي (جارات) (٢) ، و (لهن) (٣) عطاء، (فيقترضن) (٤) مني، و (نيتي) (٥) فضل ⦗٤٥٦⦘ (دراهم) (٦) العطاء على دراهمي، قال: لا باس (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (الدمري)، وفي [جـ، ز]: (أبوسري).
(٢) في [أ، ح، ط]: (جاران).
(٣) في [أ، ح، ط]: (وليس).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فيقترض)، وفي [جـ]: (معرض).
(٥) في [أ، ح، ط]: (وبينى).
(٦) في [أ، ح، ط]: (درهم).
(٧) في [هـ]: زيادة (به).

حضرت أشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے دریافت کیا کہ اے ابو سعید! میری کچھ پڑوسیاں ہیں۔ ان کے کچھ وظائف مقرر ہیں۔ وہ مجھ سے قرض لیتی ہیں اور دیتے وقت میری نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے درہم بوقت واپسی میری ان دراہم سے اچھے ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24245، ترقيم محمد عوامة 23211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23212 ترقیم الشثری: -- 24246
٢٤٢٤٦ - حدثنا ابو بكر قال:. حدثنا ابن ابي زائدة عن زكريا قال: قلت لعامر: الرجل يستقرض، فإذا خرج (عطاؤه اعطاني) (١) خيرا منها، قال: لا باس ما لم يشترط او (يعطيه) (٢) التماس (ذلك) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أعطاؤه إعطاى)، وفي [ز]: (أعطاه أعطاني).
(٢) في [ز]: (تعطه).
(٣) سقط من: [ز].

حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے فرمایا: کوئی شخص مجھ سے قرض لیتا ہے اور جب اس کو ہدیہ ملتا ہے تو وہ اس سے بہتر مجھے عطاء کرتا ہے، آپ نے فرمایا: اگر تو نے اس شرط کے ساتھ اس کو نہ دینے ہوں تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24246، ترقيم محمد عوامة 23212)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23213 ترقیم الشثری: -- 24247
٢٤٢٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن جويبر عن الضحاك قال: إذا اقرضت شيئا (فقضيت) (١) (افضل) (٢) منه، فلا باس إن لم يكن شرط عند القرض.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (تقصينا)، وفي [أ، هـ]: (تقضينا).
(٢) في [جـ]: (فضل).

حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب تم کچھ قرض لو تو اس سے بہتر ادا کرو، اور اگر قرض کے وقت اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24247، ترقيم محمد عوامة 23213)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23214 ترقیم الشثری: -- 24248
٢٤٢٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم وحماد، قال: سالتهما (عن) (١) الرجل يقرض (الرجل) (٢) (الدراهم) (٣) فياخذ خيرا من الذي اعطى، (فقالا) (٤) : إن لم يكن نوى فلا باس.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ح].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ، أ]: (الدرهم).
(٤) في [ط]: (فقال).

حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے پھر جو دئیے ہیں ان سے اچھے وصول کرتا ہے؟ فرمایا اگر اس کی شرط نہ لگائی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24248، ترقيم محمد عوامة 23214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23215 ترقیم الشثری: -- 24249
٢٤٢٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا رواد بن (جراح) (١) عن الاوزاعي في رجل اقرض رجلا عشرة دراهم (فاتى) (٢) بعشرة ودانقين، قال: لا تقبل، قلت له: إنه قد طابت نفسه (بها) (٣) ، قال: وهل يكون الربا إلا عن طيب نفس.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (جرح).
(٢) في [أ، هـ، ح]: (فيأتي).
(٣) سقط من: [جـ].

حضرت الاوزاعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دس درہم قرض دیا وہ شخص قرض واپس کرتے وقت دس درہم اور دو دانق (درہم کا چھٹا حصّہ) لے آیا، فرمایا: اس کو قبول مت کرو، میں نے عرض کیا وہ خوش دلی سے دے رہا ہے، فرمایا کیا سود خوش دلی سے نہ ہوتا تھا؟!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24249، ترقيم محمد عوامة 23215)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23216 ترقیم الشثری: -- 24250
٢٤٢٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن خالد بن دينار عن عامر في الرجل يقرض الرجل القرض وينوي ان يقضى اجود منه، قال: (ذلك) (١) اخبث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (ذاك).
حضرت عامر اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو قرض دے اور قرض دیتے وقت یہ نیت ہو کہ اس سے بہتر مجھے ادا کیا جائے گا۔ فرمایا یہ بُری نیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24250، ترقيم محمد عوامة 23216)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23217 ترقیم الشثری: -- 24251
٢٤٢٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: استقرض رجل من ابن مسعود (دراهم) (١) فقضاه، فقال (له) (٢) الرجل: (إني) (٣) تجاوزت لك من (جيد) (٤) عطائي، (فكره) (٥) ذلك ابن مسعود وقال: مثل دراهمي (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: (دراهما)، وفي [هـ، أ]: (درهمًا).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [جـ]: (إن).
(٤) في [ز]: (طيب).
(٥) في [جـ]: (وكره).
(٦) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن ابن مسعود.

حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے قرض مانگا تو آپ نے عطاء فرما دیا، اس شخص نے عرض کیا: میں نے آپ کے لئے اپنی بخشش میں سے عمدہ اور بہتر دراہم بڑھائے ہیں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا میرے درہم کے مثل واپس کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24251، ترقيم محمد عوامة 23217)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23218 ترقیم الشثری: -- 24252
٢٤٢٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام (الدستوائي) (١) عن القاسم بن ابي بزة عن عطاء بن يعقوب قال: (استسلف) (٢) مني ابن عمر الف ⦗٤٥٨⦘ درهم فقضاني دراهم اجود من دراهمي، فقال: ما كان فيها من فضل فهو نائل مني إليك، اتقبله؟ قلت: نعم! (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الدستواني).
(٢) في [هـ]: (استلف).
(٣) صحيح؛ وأخرجه الطبراني (١٣٠٧١).

حضرت عطاء بن یعقوب فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ہزار درہم قرض لیا، پھر مجھے میرے دراہم بہتر واپس کئے، اور فرمایا: اس میں جو زائد ہیں وہ میری طرف سے آپ کے لئے عطیہ ہیں، کیا آپ قبول کریں گے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24252، ترقيم محمد عوامة 23218)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں