مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
431. في الصلح بين الخصوم
دو خصموں کے درمیان صلح کا بیان
ترقیم عوامۃ: 23344 ترقیم الشثری: -- 24384
٢٤٣٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة ووكيع عن إسماعيل عن عامر قال: اتي علي في بعض الامر، (و) (١) قال وكيع: في (شيء) (٢) ، فقال: إنه (لجور) (٣) ، ولولا انه صلح (لرددته) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زائدة في [جـ].
(٢) في [ع]: (سبي).
(٣) في [أ]: (يجوز)، وكذلك [ح، ط]، وفي [ز]: (لا يجور).
(٤) في [أ، ح، ط]: (لودته).
(٥) صحيح.
حضرت عامر سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی معاملہ میں پیش کیا گیا، حضرت وکیع نے فرمایا کسی چیز کے متعلق، فرمایا یہ ظلم ہے اگر یہ صلح نہ ہوتی تو میں اس کو رد کردیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24384، ترقيم محمد عوامة 23344)
ترقیم عوامۃ: 23345 ترقیم الشثری: -- 24385
٢٤٣٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن إسماعيل عن الشعبي عن شريح قال: ايما امراة صولحت (١) (على) (٢) ثمنها، ولم يبين لها ما ترك زوجها، فتلك الريبةكلها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: زيادة (على صلحها).
(٢) في [هـ]: (عن).
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جو عورت بھی ثمن پر صلح کرے اور اس کو بیان نہ کیا جائے کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے یہ سرا سر دھوکا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24385، ترقيم محمد عوامة 23345)
ترقیم عوامۃ: 23346 ترقیم الشثری: -- 24386
٢٤٣٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن محمد قال: ما شهدت شريحا امر يصلح إلا مرة، وذلك ان رجلا اسود استودع امراة ثمانين درهما فحولت متاعها، فضاعت الدراهم، فخاصمها إلى شريح فقال: اتتهمها، قال: لا، قال: إن شئت اخذت خمسين.
حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح نے کو میں نے صرف ایک مرتبہ صلح کا فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ یوں ہوا کہ ایک شخص نے خاتون کے پاس اسّی درہم امانت رکھوائے، بعد میں خاتون نے اپنے سامان کو الٹ پلٹ کیا۔ خاتون سے وہ دراھم ضائع ہوگئے۔ پس وہ جھگڑا حضرت شریح کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ پھر کیا تو اس پر تہمت لگانا چاہتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو پچاس درہم وصول کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24386]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24386، ترقيم محمد عوامة 23346)
ترقیم عوامۃ: 23347 ترقیم الشثری: -- 24387
٢٤٣٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابي حصين عن عبد الله بن عتبة انه ربما اتاه القوم يختصمون إليه في الشيء فيقول: اذهبوا فاصطلحوا.
حضرت عبد اللہ بن عتبہ کے پاس بعض اوقات لوگ جھگڑا لے کر آتے تو آپ فرماتے کہ جاؤ چلے جاؤ اور صلح کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24387، ترقيم محمد عوامة 23347)
ترقیم عوامۃ: 23348 ترقیم الشثری: -- 24388
٢٤٣٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن اشعث [عن الشعبي] (١) عن ابن سيرين انه قال: ربما اتى شريحا القوم يختصمون إليه فيقول: اذهبوا إلى عبيدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: سقط (عن الشعبي).
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ بعض اوقات حضرت شریح کے پاس لوگ جھگڑا لے کر حاضر ہوتے تو آپ فرماتے عبیدہ کے پاس چلے جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24388، ترقيم محمد عوامة 23348)
ترقیم عوامۃ: 23349 ترقیم الشثری: -- 24389
٢٤٣٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن ازهر العطار عن محارب بن دثار قال: (قال) (١) عمر: رددوا الخصوم حتى يصطلحوا، فإن فصل القضاء يورث (٢) القوم الضغائن (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زائدة في [هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (بين).
(٣) حسن؛ أزهر الأظهر أنه صدوق، فقد روى عنه جمع من الثقات، وذكره ابن حبان في الثقات.
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جھگڑنے والوں کو واپس کردو تاکہ وہ صلح کرلیں، بیشک فیصلہ کرنے سے جھگڑنے والوں میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24389، ترقيم محمد عوامة 23349)
ترقیم عوامۃ: 23350 ترقیم الشثری: -- 24390
٢٤٣٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير بن حازم عن ابن سيرين قال: بعث عمر بن الخطاب قاضيا، فاختصم إليه رجلان في دينار، قال: فاعطاه احدهما، واعطى الآخر دينارا من عنده، فبلغ ذلك عمر فبعث إليه فعزله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک قاضی بھیجا اس کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے، اس نے اُ ن میں سے ایک کو عطا کردیا اور دوسرے کو اپنی طرف سے ایک دینار عطاء کردیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس کو معزول کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24390، ترقيم محمد عوامة 23350)