🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

573. في الضالة ينتفع منها بشيء
کیا گمشدہ (ضالّہ) چیز سے کچھ نفع لینا جائز ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23700 ترقیم الشثری: -- 24773
٢٤٧٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن (١) العالية (قالت) (٢) : كنت (جالسة) (٣) عند عائشة، فاتتها امراة فقالت: يا ام المؤمنين! إني وجدت شاة ضالة فكيف تامريني [ان اصنع بها؟ قالت: عرفي واعلفي و (احلبي) (٤) ، ثم عادت فسالتها (فقالت) (٥) : تامريني ان] (٦) آمرك ان تبيعيها او ⦗٤٩⦘ تذبحيها، فليس ذلك لك (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (أبي).
(٢) في [هـ، أ]: (قال).
(٣) في [ط]: (خالسه)، وفي [جـ]: (جالسًا).
(٤) في [ز]: (واحتلبي).
(٥) في [ز]: (فقال).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) حسن؛ المالية صدوقة.

حضرت عالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بیٹھی ہوئی تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کیا اُمّ المؤمنین! میں نے ایک گمشدہ بکری پائی ہے، آپ مجھے اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنے کا حکم فرماتی ہیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: اس کا اعلان کرواؤ اور اس کو چارہ ڈالو اور دودھ استعمال کرو، پھر خاتون کچھ عرصہ بعد دوبارہ آئی اور دریافت کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تو مجھے حکم دیتی ہے کہ میں تجھے اس کو فروخت کرنے یا ذبح کرنے کی اجازت دے دوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ بات (کام) تیرے لئے درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24773]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24773، ترقيم محمد عوامة 23700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23701 ترقیم الشثری: -- 24774
٢٤٧٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن زيد بن (جبير) (١) قال: كنت قاعدا عند ابن عمر فاتاه رجل فقال: ضالة وجدتها، فقال: اصلح إليها وانشد، (فقال) (٢) : (هل) (٣) علي إن شربت من لبنها؟ قال ابن عمر: ما ارى عليك في ذلك شيئا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [جـ، ز]: (فهل).
(٤) صحيح.

حضرت زید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے ایک گمشدہ اونٹنی ملی ہے، اس کا خیال رکھ اور اس کے بارے میں پوچھ داچھ کرتا رہ، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کا دودھ استعمال کرلوں تو کیا مجھ پر ضمان ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشادفرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس کے بارے میں تجھ پر کوئی تاوان ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24774]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24774، ترقيم محمد عوامة 23701)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23702 ترقیم الشثری: -- 24775
٢٤٧٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن ابي زائدة عن سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ان رجلا قال له: وجدت جملا ضالا ادعه يضرب في إبلي؟ قال: لا.
حضرت سعید بن المسیب سے ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے ایک گمشدہ اونٹ ملا ہے، کیا میں اُ س کو اپنے اونٹوں کے ساتھ گھومنے چھوڑ دوں؟ فرمایا کہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24775]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24775، ترقيم محمد عوامة 23702)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23699 ترقیم الشثری: -- 24776
٢٤٧٧٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم [قال: (لا) (١) ربح لمال مضمون، قال: (تفسيره) (٢) : الرجل ياخذ من الرجل مالا مضاربة ويقول: اضمن لك ولك نصف الربح] (٣) او ثلثه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: ساقطة.
(٢) في [ز، جـ]: (فسرها)، وفي [أ، ح]: (فيسره).
(٣) سقط من: [ط].

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں، مال مضمون کا نفع کا مطلب یہ ہے کہ: ایک شخص دوسرے سے مال مضاربت یہ کہہ کرلے کہ میں تیرا ضامن ہوں اور نصف یا ثلث نفع تیرا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24776]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24776، ترقيم محمد عوامة 23699)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں