مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
164. الرجل يريد المرأة على نفسها
اس آدمی کا بیان جو عورت سے غلط کام کا ارادہ کرلے
ترقیم عوامۃ: 28369 ترقیم الشثری: -- 29613
٢٩٦١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن القاسم عن عبيد بن عمير ان رجلا اضاف إنسانا من هذيل، فذهبت جارية منهم تحتطب، ⦗٢٤٢⦘ فارادها على نفسها فرمته بفهر فقتلته، فرفع إلى عمر بن الخطاب (قال) (١) : فذلك قتيل الله، لا يؤدى ابدا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في (ك): (فقال).
(٢) صحيح.
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دعوت کی پس ان میں سے ایک باندی لکڑیاں کاٹنے جا رہی تھی۔ پس اس شخص نے اس باندی سے غلط کا م کا ارادہ کیا تو اس باندی نے پتھر مار کر اسے قتل کردیا پھر یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا مقتول ہے اس کی کبھی دیت ادا نہیں کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29613]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29613، ترقيم محمد عوامة 28369)
ترقیم عوامۃ: 28370 ترقیم الشثری: -- 29614
٢٩٦١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد ان رجلا اراد امراة على نفسها، فرفعت حجرا فقتلته، فرفع ذلك إلى عمر فقال: ذاك قتيل الله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے غلط کام کا ارادہ کیا تو اس نے اسے پتھر اٹھا کر مارا اور اسے قتل کردیا پس یہ معاملہ حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا مقتول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29614]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29614، ترقيم محمد عوامة 28370)
ترقیم عوامۃ: 28371 ترقیم الشثری: -- 29615
٢٩٦١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عائذ بن حبيب عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (١) ان امراة بالشام اتت الضحاك بن قيس فذكرت له ان إنسانا استفتح عليها بابها وانها استغاثت فلم يغثها احد، وكان الشتاء، ففتحت له الباب واخذت رحى فرمته بها فقتلته، فبعث معها (وإذا) (٢) لص من اللصوص وإذا معه متاع فابطل دمه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (سيار).
(٢) في [جـ، ك، م]: ([وإذ).
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ شام کی ایک عورت حضرت ضحاک بن قیس کے پاس آئی اور ان کے سامنے ذکر کرنے لگی کہ ایک شخص نے اس کا دروازہ کھلوایا اس عورت نے مدد مانگی پس کسی نے اس کی مدد نہیں کی اور وہ سردیوں کے دن تھے پس اس نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا اور چکی اٹھا کر اسے ماردی پس وہ آدمی مرگیا پھر حضرت ضحاک نے اس عورت کے ساتھ کسی کو بھیج دیا تو وہ چوروں میں سے ایک چور نکلا اور اس کے پاس سامان بھی تھا پس آپ نے اس کا خون باطل قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29615]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29615، ترقيم محمد عوامة 28371)