🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. في الرجل يريد السفر ما يدعو به
اس آدمی کا بیان جو سفر کا ارادہ کرے تو یوں دعاکرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30222 ترقیم الشثری: -- 31585
٣١٥٨٥ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ إذا اراد ان يخرج في سفر قال:"اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل، اللهم إني اعوذ بك من (الضبنة) (١) في السفر والكآبة في المنقلب، اللهم اقبض لنا الارض، وهون علينا السفر" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الضبنة: الزمانة، وفي [أ، ب، ط]: (الفتنة).
(٢) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، وأخرجه أحمد (٢٣١١)، وابن حبان (٢٧١٦)، والطبراني (١١٧٣٥) وفي الدعاء (٨٠٩)، وابن السني (٥٣١)، والحاكم ١/ ٤٨٨، والبزار (٣١٢٧/ كشف)، وأبو يعلى (٢٣٥٣) والبيهقي ٥/ ٢٥٠، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٣٤٦، والخطابي في غريب الحديث ١/ ٢٧٠، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٥٤٨.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یوں دعا کرتے: اے اللہ! تو سفر میں میرا ساتھی ہے، اور گھر میں میرا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر میں بیمار ہونے سے، اور غم کی حالت میں لوٹنے سے، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے، اور ہمارے لیے سفر کو آسان فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31585، ترقيم محمد عوامة 30222)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30223 ترقیم الشثری: -- 31586
٣١٥٨٦ - (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم عن عبد الله بن سرجس قال: كان رسول الله ﷺ إذا خرج مسافرا يتعوذ من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور، ومن دعوة المظلوم (٢) سوء المنظر) (٣) في الاهل والمال (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ك]: زيادة (من).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٤٣)، وأحمد (٢٠٧٧١).

حضرت عبد اللہ بن سرجس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو پناہ مانگتے تھے سفر کی مشقت سے، اور غمگین لوٹنے سے، اور رزق میں کشادگی کے بعد تنگی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے، اور گھر میں اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31586، ترقيم محمد عوامة 30223)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30224 ترقیم الشثری: -- 31587
٣١٥٨٧ - حدثنا وكيع عن اسامة بن زيد عن سعيد المقبري عن ابي هريرة قال: اراد رجل سفرا فاتى النبي ﷺ فقال: اوصني فقال:"اوصيك بتقوى الله والتكبير ⦗٢٨٦⦘ على كل شرف" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه أحمد (٩٧٢٤)، والترمذي (٣٤٤٥)، وابن ماجه (٢٧٧١)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٥٠٥)، وابن خزيمة (٢٥٦١)، وابن حبان (٢٦٩٢)، والحاكم ٢/ ٩٨، وابن السني (٥٠١)، والبيهقي ٥/ ٢٥١، والبغوي (١٣٤٦).
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: مجھے وصیت فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے کی، اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31587، ترقيم محمد عوامة 30224)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30225 ترقیم الشثری: -- 31588
٣١٥٨٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان قال: حدثني عون بن عبد الله ان رجلا اتى ابن مسعود فقال: إني اريد سفرا فاوصني، فقال: إذا توجهت (ففل) (١) : بسم الله، حسبي الله، وتوكلت على الله، فإنك إذا قلت: بسم الله، قال الملك: هديت، وإذا قلت: حسبي الله، قال الملك: حفظت، وإذا (قلت) (٢) : توكلت على الله، قال الملك: كفيت (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (فقل).
(٢) في [جـ، ك]: (قال).
(٣) منقطع؛ عون لم يسمع من ابن مسعود.

حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میرا سفر کا ارادہ ہے پس آپ مجھے وصیت فرما دیجئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب تو سفر کے لیے متوجہ ہو تو یہ کلمات کہہ: اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، مجھے اللہ کافی ہے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، پس جب تو کہے گا اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں تو فرشتہ کہے گا، تجھے ہدایت دی گئی، اور جب تو کہے گا، مجھے اللہ کافی ہے، تو فرشتہ کہے گا، تیری حفاظت کی گئی،، اور جب تو کہے گا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا تو فرشتہ کہے گا، تیری کفایت کی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31588، ترقيم محمد عوامة 30225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30226 ترقیم الشثری: -- 31589
٣١٥٨٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يقولون في السفر: اللهم بلاغا يبلغ خير مغفرتك منك ورضوانا، (و) (١) بيدك الخير، إنك على كل شيء قدير، اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة على الاهل، (اللهم) (٢) اطو لنا الارض وهون علينا السفر، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر، وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الاهل والمال.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ صحابہ سفر میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! خیر کو پہنچا ایسی خیر جس میں تیری طرف سے مغفرت ہو اور تیری رضا ہو، خیر تیرے ہی قبضہ میں ہے، یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی ہے۔ اور گھر والوں پر ہمارا خلیفہ ہے۔ اے اللہ! ہمارے لیے زمین کی دوری کو ختم فرما، اور ہم پر سفر کو آسان فرما، اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے، اور غمگین لوٹنے سے اور گھر اور مال میں بُرا منظر دیکھنے سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31589]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31589، ترقيم محمد عوامة 30226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30227 ترقیم الشثری: -- 31590
٣١٥٩٠ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: سافرت مع ابن عمر فإذا كان من السحر نادى: سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه عندنا، اللهم ⦗٢٨٧⦘ صاحبنا فافضل علينا ثلاثا، اللهم عائذ بك من جهنم ثلاثا (١)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ يزيد بن أبي زياد ضعيف، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٢٩)، والبخاري في التاريخ ١/ ٢٥٩، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٦/ ٣٨٥، وابن فضيل في الدعاء (٤٤).
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سفر کیا، پس جب صبح ہوئی تو آپ یوں ندا لگاتے تھے، تین مرتبہ، سننے والے نے سن لیا اللہ کی حمد اور اس کی نعمت اور اس کی طر ف سے ہم پر ہر اچھے انعام کو، اے اللہ! تو ہمارا ساتھی بن! پس ہم پر فضل فرما، پھر تین مرتبہ یوں ندا لگاتے: اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں جہنم سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31590]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31590، ترقيم محمد عوامة 30227)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں