مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في التطريب من كرهه
گانے کے انداز میں پڑھنے کا بیان، جو لوگ اس کو ناپسند سمجھتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 30568 ترقیم الشثری: -- 31940
٣١٩٤٠ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا عمران بن عبد الله بن طلحة ان رجلا قرا في مسجد النبي ﷺ في رمضان فطرب فانكر ذلك القاسم وقال: يقول: الله (تعالى) (٢) : ﴿وإنه (لكتاب) (٣) عزيز (٤١) لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد﴾ [فصلت: ٤١ - ٤٢] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (عقال).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [ك]: (كتاب).
حضرت عمران بن عبد اللہ بن طلحہ فرماتے ہیں ایک آدمی رمضان میں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قرآن مجید کی تلاوت گنگنانے کے آواز میں کر رہا تھا: تو حضرت قاسم نے اس کا انکار کیا اور فرمایا: اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: حالانکہ وہ زبردست کتاب ہے۔ نہیں آسکتا ہے اس کے پاس باطل نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے، یہ نازل کردہ ہے اس ہستی کی طرف سے جو بڑی حکمت والی اور قابل تعریف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31940]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31940، ترقيم محمد عوامة 30568)
ترقیم عوامۃ: 30569 ترقیم الشثری: -- 31941
٣١٩٤١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن الاعمش ان رجلا قرا عند انس فطرب فكره ذلك انس (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ سليمان بن الأعمش لم يدرك أنسًا.
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت انس کے پاس گنگنا کر قرآن کی تلاوت کی۔ تو حضرت انس نے اس کو ناپسند کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31941]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31941، ترقيم محمد عوامة 30569)
ترقیم عوامۃ: 30570 ترقیم الشثری: -- 31942
٣١٩٤٢ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا (عبيد الله) (٢) بن ابي بكر ان زياد (النميري) (٣) جاء مع (القراء) (٤) إلى انس بن مالك (فقيل) (٥) له: إقرا، فرفع صوته، وكان رفيع الصوت، فكشف انس عن وجهه الخرقة، وكان على وجهه خرقة سوداء، فقال: ما هذا؟ ما هكذا كانوا يفعلون، وكان إذا راى شيئا ينكره كشف الخرقة عن وجهه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (عقال).
(٢) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ك]: (النمري).
(٤) في [أ، ب، ط]: (القرآن).
(٥) في [هـ]: (فقال)، وفي [ط]: (فقابل).
(٦) صحيح.
حضرت عبید اللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد النمیری چند قرّاء کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو ان کو کہا گیا: تلاوت کیجیے۔ تو انہوں نے اونچی آواز کی اور وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ تو حضرت انس نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ اور ان کے چہرے پر ایک کالے رنگ کا کپڑا تھا۔ پھر فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ ایسے تو نہیں کرتے تھے۔ اور جب آپ کسی چیز کو برا سمجھتے تھے تو اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31942]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31942، ترقيم محمد عوامة 30570)
ترقیم عوامۃ: 30571 ترقیم الشثری: -- 31943
٣١٩٤٣ - حدثنا جرير عن ليث (عن) (١) عبد الرحمن بن الاسود قال: كان احدهم يمد بالآية في جوف الليل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بن).
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن الاسود نے ارشاد فرمایا: ان میں سے ایک آدھی رات کو آیات بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31943، ترقيم محمد عوامة 30571)