صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ:
باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 1504 ترقیم شاملہ: -- 3786
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ، خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ؟ "، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ، فَقَالَ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ "، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین سنتیں (متعین) ہوئیں: جب وہ آزاد ہوئی تو اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار دیا گیا۔ اسے گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو ہنڈیا چولھے پر تھی، آپ نے کھانا طلب فرمایا تو آپ کو روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں نے آگ پر چڑھی ہنڈیا نہیں دیکھی جس میں گوشت تھا؟“ گھر والوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! وہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا تو ہمیں اچھا نہ لگا کہ ہم آپ کو اس میں سے کھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی (بریرہ رضی اللہ عنہا) کے بارے میں فرمایا تھا: ”حقِ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ کے واقعات سے تین رویے (طرز عمل) معلوم ہوئے؛ جب وہ آزاد ہوئی تو اسے خاوند کے سلسلہ میں اختیار ملا، اور اسے گوشت دیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے جبکہ ہنڈیا چولہے پر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گھر میں تیار کیا گیا سالن پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا مجھے چولہے پر گوشت والی ہنڈیا دکھائی نہیں دے رہی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سے کھلانا پسند نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ» ”وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے تحفہ ہے۔“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ”ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3786]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1504
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1505 ترقیم شاملہ: -- 3787
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے (اسے بیچنے سے) انکار کیا، الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: ”یہ شرط تمہیں (نیکی سے) نہ روکے، کیونکہ حقِ ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3787]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کرنے کے لیے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا، تو لونڈی کے مالکوں نے ولاء اپنے لیے ہونے کے بغیر، اس سے انکار کر دیا، تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی بے جا شرط تمہیں اس مقصد سے نہ روکے، کیونکہ ولاء تو اس کو ملنی ہے، جس نے آزاد کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْعِتْقِ/حدیث: 3787]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1505
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة