🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. في بني عم أحدهم الزوج
یہ باب ہے ان چچا زاد بھائیوں کے بارے میں جن میں سے ایک شوہر ہو
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31737 ترقیم الشثری: -- 33158
٣٣١٥٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن اوس عن حكيم بن (عقال) (١) قال: اتي علي في ابني عم احدهما زوج والآخر اخ لام فقال لشريح: قل فيها، فقال شريح: للزوج النصف، (و) (٢) ما بقي فللاخ، فقال له علي: راي، قال: كذلك رايت، فاعطى علي الزوج النصف، والاخ السدس، وجعل ما بقي بينهما (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عفان).
(٢) في [أ]: (ف).
(٣) حسن؛ حكيم ذكره ابن حبان في الثقات ووثقه العجلي وروى عنه جماعة، وقد صرح شعبة بسماع أوس من حكيم كما روى البخاري في تاريخه ٢/ ١٩، فيخالف ما في أخبار القضاة ٢/ ٢٩٠ من الإخبار بواسطة مجهولة بينهما وأخرجه أحمد في العلل ١/ ١٣٨، وسعيد ابن منصور (١٣٠)، وإسحاق بن منصور في مسائل أحمد ٢/ ٤١١، والبيهقي ٦/ ٢٣٩.

حکیم بن عقال فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو چچا زاد بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک شوہر تھا اور دوسرا ماں شریک بھائی تھا، آپ نے حضرت شریح سے فرمایا کہ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت شریح نے فرمایا کہ شوہر کے لئے نصف ہے اور باقی بھائی کے لئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کیا آپ کی یہی رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: میری رائے تو یہی ہے، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شوہر کو نصف مال دے دیا اور بھائی کو چھٹا حصّہ دے دیا، اور باقی مال دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33158، ترقيم محمد عوامة 31737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31738 ترقیم الشثری: -- 33159
٣٣١٥٩ - حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زائدة عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم في امراة تركت ثلاثة بني عم احدهم زوجها والآخر اخوها لامها، فقال ⦗٢٥٩⦘ علي وزيد: للزوج النصف وللاخ من الام السدس، وما بقي فهو بينهم سواء، وقال ابن مسعود: للزوج النصف، وما بقي فللاخ (من الام) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (للأم).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك هؤلاء الصحابة.

ابراہیم سے روایت ہے کہ وہ عورت جس نے تین چچا زاد بھائیوں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نصف مال شوہر کے لئے اور چھٹا حصّہ ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا، اور باقی ان کے درمیان برابر کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نصف مال شوہر کے لئے ہے اور باقی مال ماں شریک بھائی کے لئے ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کی رائے مطابق چھ کے عدد سے نکلے گا جن میں سے تین حصّے (یعنی آدھا مال) شوہر کے لئے، اور ماں شریک بھائی کے لئے چھٹا حصّہ ہوگا، اور دو حصّے باقی بچیں گے جو ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے نصف شوہر کے لئے اور باقی ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33159، ترقيم محمد عوامة 31738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33160
٣٣١٦٠ - قال ابو بكر: وهذه في قول علي وزيد من ستة اسهم: للزوج النصف (ثلاثة) (١) ، وللاخ للام السدس، ويبقى سهمان، فهما بينهما، وفي قول ابن مسعود من سهمين: للزوج النصف، وما بقي فللاخ للام.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ]: (ثلثه).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33160، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں