🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. إذا ترك إخوة وجدا واختلافهم فيه
جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31878 ترقیم الشثری: -- 33327
٣٣٣٢٧ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم قال: كان عبد الله وزيد يجعلان للجد الثلث (١) وللإخوة الثلثين، وفي رجل ترك اربعة إخوة لابيه وامه واختيه لابيه وامه وجده، قال: كان علي يجعلها اسهما اسداسا (٢) السدس (له) (٣) ، لم يكن علي يجعل للجد اقل من السدس مع الإخوة، وما بقي فللذكر مثل حظ الانثيين، وكان عبد الله وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين للذكر مثل حظ الانثيين، وقال في خمسة إخوة وجد، قال: فللجد في قول علي السدس، وللإخوة خمسة اسداس، وكان عبد الله وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [أ، ب]: (وللإخوة الثلث).
(٢) زيادة في [أ، ب، جـ، م]: (للجد).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کے لئے ایک تہائی مال مقرر فرمایا کرتے تھے اور بھائیوں کے لئے دو تہائی مال، اور اس مسئلے میں کہ جب آدمی اپنے حقیقی بھائیوں اور دو حقیقی بہنوں اور دادا کو چھوڑ کر مرے، حضرت علی رضی اللہ عنہ مال کو چھ حصّوں پر تقسیم کردیا کرتے تھے، اور دادا کو چھٹا حصّہ دلایا کرتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھائیوں کی موجودگی میں دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا کرتے تھے، اور باقی مال اس ضابطے پر تقسیم ہوتا کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جاتا، اور حضرت عبد اللہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال دیا کرتے تھے، اور بھائیوں کو دو تہائی مال، اس ضابطے پر کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جائے، اور حضرت ابراہیم نے پانچ بھائیوں اور ایک دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال اور بھائیوں کو دو تہائی مال دلایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33327، ترقيم محمد عوامة 31878)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31879 ترقیم الشثری: -- 33328
٣٣٣٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق قال: كان ابن مسعود لا يزيد الجد على السدس مع الإخوة، قال: فقلت له: شهدت عمر بن الخطاب اعطاه الثلث مع الإخوة فاعطاه الثلث (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف جابر.
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ہوتے ہوئے مال کے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ دادا کو بھائیوں کی موجودگی میں ایک تہائی مال دیتے تھے، تو حضرت نے اس کو ایک تہائی مال دلانا شروع فرما دیا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33328، ترقيم محمد عوامة 31879)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31880 ترقیم الشثری: -- 33329
٣٣٣٢٩ - حدثنا عبد الاعلى عن داود عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم قال إن اول جد ورث في الإسلام عمر بن الخطاب فاراد ان يحتاز المال فقلت له: يا امير المؤمنين إنهم شجرة دونك -يعني: بني (بنيه) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (بينه).
(٢) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس.

حضرت عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا دادا جو وارث بنایا گیا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ تمام مال لے لیں، میں نے کہا اے امیر المؤمنین! پوتے آپ کے لئے رکاوٹ ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا، ایک تہائی مال دادا کے لئے ہوگا اور باقی مال بھائیوں کے لئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں چھ حصّوں سے نکلے گا، دادا کے لئے چھٹا حصّہ اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33329، ترقيم محمد عوامة 31880)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33330
٣٣٣٣٠ - قال ابو بكر: فهذه في قول عمر وعبد الله وزيد من ثلاثة اسهم: فللجد الثلث وما بقي فللإخوة، وفي قول علي من ستة اسهم: للجد السدس سهم، وللإخوة خمسة اسهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33330، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں