🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. في ولد الزنا يدعيه الرجل يقول هو: (ابني)، هل يرثه؟
ولد الزنا کا بیان جس کے نسب کا کوئی آدمی دعویٰ کرے اور وہ کہے کہ یہ میرا باپ ہے، کیا وہ اس کا وارث ہو گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32065 ترقیم الشثری: -- 33548
٣٣٥٤٨ - حدثنا روح بن عبادة عن محمد بن ابي حفصة قال: حدثني ابن شهاب عن علي بن حسين انه كان لا يورث ولد الزنا وإن ادعاه الرجل.
ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین ولد الزنا کو وارث نہیں بناتے تھے، چاہے کوئی آدمی اس کے نسب کا دعویٰ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33548، ترقيم محمد عوامة 32065)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32066 ترقیم الشثری: -- 33549
٣٣٥٤٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن ابن طاوس قال: قلت له: ما كان ابوك يقول في ولد الزنا (يعتقه) (١) مواليه او سادته (فيستلحقه) (٢) ابوه وقد علم (مواليه) (٣) انه ابنه؟ قال: كان يقول: لا يرث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (معصه).
(٢) في [أ]: (فيستحلفه).
(٣) سقط من: [هـ].

ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس کے بیٹے سے پوچھا کہ آپ کے والد اس ولد الزنا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کو اس کے آقا یا اس کے سردارآزاد کردیں اور پھر اس کا والد اس کے نسب کا اقرار کرلے، جبکہ اس کے آقاؤں کو یہ علم ہو کہ یہ اس کا بیٹا ہے؟ انہوں نے فرمایا، کہ وہ فرماتے تھے، کہ وہ وارث نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33549، ترقيم محمد عوامة 32066)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32067 ترقیم الشثری: -- 33550
٣٣٥٥٠ - حدثنا الضحاك عن ابن جريج عن عطاء انه قال: يرثه إذا عرف مواليه انه ابنه، وإن (انكر) (١) مواليه وخاصموه لم يرث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (أنكره).
ابن جریج روایت کرتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا، کہ ولد الزنا اس کا وارث ہوگا جبکہ اس کے سردار جانتے ہوں کہ یہ اس کا بیٹا ہے، اور اگر اس کے مولیٰ، انکار کردیں اور جھگڑا کریں تو وہ وارث نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33550، ترقيم محمد عوامة 32067)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32068 ترقیم الشثری: -- 33551
٣٣٥٥١ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول الله ﷺ:"من (عهر) (١) بامراة حرة او امة (قوم) (٢) (فإنه) (٣) لا يرث ولا يورث" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عهد)، وفي [جـ، م]: (عهر).
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [هـ]: (فالولد ولد زنا).
(٤) مرسل، عمرو بن شعيب من تابعي التابعين، أخرجه عبد الرزاق (١٩١٣٨)، وقد ورد من طريق عمرو عن أبيه عن جده أخرجه أحمد (٧٠٤٢)، وأبو داود (٢٢٦٦٥)، والترمذي (٢١١٣)، وابن ماجه (٢٧٤٥)، والبيهقي ٦/ ٢٦٠.

ابن جریج روایت کرتے ہیں، کہ حضرت عمرو بن شعیب نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو آدمی کسی آزاد عورت کے ساتھ زنا کرے، یا کسی قوم کی باندی کے ساتھ زنا کرے تو نہ وہ وارث ہوگا، نہ کوئی دوسرا اس کا وارث ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33551، ترقيم محمد عوامة 32068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32069 ترقیم الشثری: -- 33552
٣٣٥٥٢ - حدثنا محمد بن ابي عدي عن اشعث عن محمد في ابن (تولد) (١) من الزنا قال: لا يلحق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (مولد).
اشعث روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زنا سے پیدا ہونے والا بچہ زانی سے ثابت النسب نہیں ہوسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33552، ترقيم محمد عوامة 32069)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32070 ترقیم الشثری: -- 33553
٣٣٥٥٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن (شباك) (١) عن إبراهيم قال: لا يرث ولد الزنا، (ولا) (٢) يرث من لا يقام على ابيه الحد (و) (٣) يملك امه بنكاح او شراء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (سماك).
(٢) في [هـ]: (إنما)، وانظر الخبر في مسائل أحمد لإسحاق بن منصور ٢/ ٤٢٢.
(٣) في [هـ]: (أو).

شباک روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا، کہ حرامی بچہ وارث نہیں ہوگا، صرف وہ بچہ وارث ہوگا جس کے باپ پر حد قائم نہ کی جائے، اور اس کی ماں نکاح یا خریداری کے ذریعے سے ملکیت میں آئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33553، ترقيم محمد عوامة 32070)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32071 ترقیم الشثری: -- 33554
٣٣٥٥٤ - حدثنا يحيى بن ادم عن زهير عن الحسن بن الحر عن الحكم قال: حدثني ان ولد الزنا لا يرثه الذي يدعيه ولا يرثه المولود.
حسن بن حُر روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکم نے مجھے یہ بیان کیا، کہ ولد الزنا کا وہ آدمی وارث نہیں ہوسکتا جو اس کے نسب کا اقرار کرے، اور نہ وہ ولد الزنا اس کا وارث ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33554]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33554، ترقيم محمد عوامة 32071)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں